سرکاری ملازمتوں میں تقررات کا مطالبہ ، طلباء کا احتجاج

حیدرآباد۔/18مارچ، ( سیاست نیوز) عثمانیہ یونیورسٹی آج ایک بار پھر طلباء کے احتجاج سے دہل گئی۔ سرکاری ملازمتوں پر تقرات کے اعلان کا مطالبہ کرتے ہوئے طلباء نے احتجاج منظم کیا۔ عثمانیہ یونیورسٹی طلباء کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے چلو اسمبلی مارچ کی اپیل کی تھی اور آج صبح ہی سے کیمپس کے سارے طلباء تاریخی آرٹس کالج کی عمارت کے پاس جمع ہوگئے اور ریالی کی شکل میں عثمانیہ یونیورسٹی سے نکل کر اسمبلی کی جانب بڑھنے لگے۔ طلباء کی احتجاجی ریالی جیسے ہی این سی گیٹ پہنچی پہلے سے تعینات پولیس کی بھاری جمعیت نے طلباء کی کوشش کو ناکام بنادیا اور آگے بڑھنے سے روک دیا۔ طلبہ کے احتجاج کو روکنا کیمپس میں کشیدگی کا سبب بن گیا اور برہم طلباء اور پولیس کے درمیان بحث و تکرار شروع ہوگئی۔ پولیس نے طلباء کو منتشر کرنے کیلئے ان پر دباؤ ڈالا جس پر برہم طلباء نے پولیس پر پتھراو کیا۔ طلباء اور پولیس میں کافی دیر تک رسہ کشی جاری رہی اور پولیس نے احتیاطی طور پر چند طلباء کو حراست میں لے لیا تھا۔ احتجاجی طلباء سرکاری ملازمتوں کے تقررات کے اعلان میں تاخیر پر برہم مخالف حکومت نعرے لگارہے تھے۔