حیدرآباد ۔ 10 ۔ مارچ : غریب حاملہ خواتین سرکاری زچگی خانوں کا رخ اس لیے کرتی ہیں کیوں کہ وہ اس بات کے متحمل نہیں ہوسکتے کہ ان خواتین کا کسی خانگی دواخانے میں علاج و معالجہ کروائیں یا زچگی کا انتظام کریں ۔ ایک یا دو دہے قبل تک بھی سرکاری زچگی خانوں اور ہاسپٹلوں میں شریک خواتین کی اچھی طرح طبی نگہداشت کی جاتی تھی لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ایسا لگتا ہے کہ طبی عملہ سے لے کر حکومت کے ذمہ داران سب کے سب سنگدل ہوگئے ہیں ۔جہاں تک سرکاری زچگی خانوں کا سوال گورنمنٹ میٹرنٹی ہاسپٹل پیٹلہ برج کی بات ہے ۔ 16 ماہ کی ریکارڈ مدت میں 49 کروڑ روپئے کی لاگت سے 5 ایکڑ اراضی پر تعمیر کردہ اس ہاسپٹل میں سمجھا جارہا تھا کہ تمام عصری طبی سہولتیں مہیا کی جائیں گی ، خون کی کمی کا شکار حاملہ خواتین کو خون کی فراہمی کے لیے بلڈ بنک ہوگا ، ان کے آرام کے لیے صاف ستھرے بستر ہوں گے ۔لیکن عوام اور سماجی جہدکاروں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر وائی ایس آر کے دور میں تعمیر کردہ گورنمنٹ میٹرنٹی ہاسپٹل پیٹلہ برج میں تمام سہولتوں کا فقدان ہے ۔ مریض زیادہ بستر کم ، صاف صفائی کے ناقص انتظامات ، ہاسپٹل کے باہر کتوں کی کثرت پائی جاتی ہے ۔ متعدد شکایتوں کے منظر عام پر آنے کے بعد اس ہاسپٹل پہنچ کر وہاں کے حالات کا جائزہ لینے کی کوشش کی گی تو پتہ چلا کہ ظاہری طور پر یہ ہاسپٹل ضرور ہے لیکن اس میں خستہ حال بستروں اور چند ایک آلات کے علاوہ فرش پر سوئی ہوئی حاملہ خواتین کے سواء زچگی خانہ والی کوئی بات نہیں ہے ۔ ہاسپٹل میں ڈاکٹروں اور طبی عملہ سے کہیں زیادہ تعداد میں کتوں کو اِدھر اُدھر دوڑتے دکھائی دیں گے ۔ چیک اپ کے لیے خواتین ایک دن قبل ہاسپٹل پہنچ کر الصبح 6 بجے قطار میں ٹہر جاتی ورنہ وہ طبی معائنے کروانے سے قاصر رہتی ہیں ۔ پتہ چلا کہ اس سرکاری زچگی خانہ سے یومیہ 500 ۔ 600 حاملہ خواتین رجوع ہوتی ہیں لیکن صرف 100 خواتین کو ہی شریک دواخانہ کیا جاتا ہے ۔
مابقی کو مجبوراً واپس ہونا پڑتا ہے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ 462 بستروں کے اس زچگی خانہ میں جو ڈائگناسٹک لیاب ہے وہ 12 بجے بند ہوجاتا ہے ۔ نتیجہ میں مریض خواتین کو خانگی لیبارٹریز کا رخ کرنا پڑتا ہے ۔ حاملہ عورتوں میں خون کی شدید کمی پائی جاتی ہے لیکن گورنمنٹ میٹرنٹی ہاسپٹل میں کوئی بلڈ بنک بھی نہیں ہے ۔ حکومت اس زچگی خانہ کے بارے میں یہ دعویٰ کرتے نہیں شرماتی کہ یہ تمام سہولتوں سے آراستہ ہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ گورنمنٹ میٹرنٹی ہاسپٹل پیٹلہ برج میں پرانا شہر ، محبوب نگر ، نلگنڈہ ، رنگاریڈی ، میدک اور نظام آباد جیسے اضلاع کے علاوہ پڑوسی ریاستوں کے سرحدی علاقوں میں رہنے والی غریب خواتین رجوع ہوتی ہیں ۔ لیاب چونکہ 12 بجے بند کردی جاتی ہے اس لیے غریبوں کو خانگی لیابس سے رجوع ہونا پڑتا ہے ۔ جائزہ لینے پر پتہ چلا کہ اتنے بڑے ہاسپٹل میں ایک ہی اسکیاننگ مشین ہے ۔ 462 بستروں کے لیے ہر روز کم از کم 600 مریضوں میں مقابلہ ہوتا ہے ۔ بستر نہ ملنے کے باعث کئی خواتین فرش پر ہی بچوں کو جنم دیتی ہیں ۔ ان حالات پر ہاسپٹل انتظامیہ حکومت اور اعلیٰ عہدیدار سب کے سب خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں حالانکہ 2009 میں جب اس ہاسپٹل کا افتتاح ہوا تھا اس وقت ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے پر زور انداز میں کہا تھا کہ بہت جلد اس کے بستروں میں 700 تک اضافہ کیا جائے گا اور مکمل ملٹی اسپیشالیٹی ہاسپٹل ہوگا ۔ لیکن بستروں میں اضافہ تو دور اسکیاننگ مشین فراہم کرنے سے بھی گریز کیا گیا ۔ حاملہ خواتین اور ان کے رشتہ داروں نے بتایا کہ ہاسپٹل میں قدم قدم پر رشوت طلب کی جاتی ہے ۔ کاش گورنر مسٹر ای ایل نرسمہن اپنی اہلیہ کے ہمراہ سرکاری زچگی خانہ پیٹلہ برج کا معائنہ کرتے تو شائد اس کی صورتحال میں کوئی بہتری آتی ۔۔