حیدرآباد 26 فروری (سیاست نیوز) ریاست میں حکومت ہے یا نہیں کوئی بھی کہنے سے قاصر ہے۔ عہدیدار من مانی کررہے ہیں۔ مرکز فیصلہ لینے کے متحمل نظر نہیں آرہا ہے۔ ریاست میں موجود سیاسی بحران کے خلاف ہائیکورٹ میں درخواست مفاد عامہ دائر کی جاچکی ہے۔ اِس کے باوجود بھی تاحال ریاستی حکومت کے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ دفاتر معتمدی میں روزانہ ایسی کئی فائیلس ہوتی ہیں جن پر وزیراعلیٰ یا متعلقہ وزراء کی دستخط ضروری ہوتی ہے
لیکن اِس طرح کی فائیلس گزشتہ چند دنوں سے آگے نہیں بڑھ پارہی ہیں جوکہ ریاست میں سرکاری بحران کی علامت بنی ہوئی ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف دفاتر معتمدی کی ہے بلکہ بیشتر سرکاری دفاتر میں کام کاج بالکلیہ طور پر ٹھپ ہوچکا ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے گزشتہ تین یوم سے جاری نئی حکومت کی تشکیل کی کوششیں آج ماند پڑتی نظر آرہی ہیں لیکن اِس کے باوجود بھی گورنر آندھراپردیش مسٹر ای ایس ایل نرسمہن کی جانب سے مرکز کو روانہ کردہ رپورٹ کا جائزہ لینے کے لئے 28 فروری کو کابینہ کا اجلاس طلب کئے جانے کی توقع ہے۔ ریاست میں گزشتہ چند ماہ سے جاری بحران کی صورتحال کا خاتمہ صدر راج کی صورت میں ہوگا یا نہیں یہ کہنا ابھی قبل ازوقت ہوگا لیکن مرکزی حکومت کی جانب سے موصول ہونے والے اشارے یہ ظاہر کررہے ہیں کہ ریاست تیزی سے صدر راج کی طرف بڑھ رہی ہے۔
بعض سیاسی حلقوں کی جانب سے یہ تجزیہ بھی کیا جارہا ہیکہ نئی حکومت کی تشکیل کے سلسلہ میں مرکز کی کوششیں کچھ حد تک کارگر بھی ثابت ہوسکتی ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ مرکزی حکومت بالخصوص کانگریس کو اِس بات کا خدشہ ہے کہ اگر کسی جماعت کی حمایت کے ساتھ عددی طاقت حاصل کرلی جائے اور ایسی صورت میں کچھ اور ارکان اسمبلی جو ریاست کی تقسیم سے ناراض ہیں، اپوزیشن سے رابطہ استوار کریں تو عددی طاقت گھٹ سکتی ہے اِسی لئے کانگریس یہ خطرہ مول لینا نہیں چاہتی۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے باوجود آئندہ دو دنوں میں منعقد ہونے والے مرکزی کابینہ کے اجلاس میں اِس بات کا قطعی فیصلہ کئے جانے کا امکان ہے۔ کانگریس کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ سیما آندھرا علاقوں سے تعلق رکھنے والے بعض وزراء تشکیل حکومت کے مخالف ہیں اِسی لئے تشکیل حکومت کے متعلق سونچنا درست نہیں ہے۔