سرکاری اسکولس کی مثالی ترقی ، خانگی اسکولس کی ابتر صورتحال

نصابی کتب کی عدم دستیابی سے مشکلات ، خانگی پبلیشرس کی چاندی
حیدرآباد /25 جولائی ( سیاست نیوز ) ریاست میں تعلیم کو عام کرنے اور آسان بنانے کیلئے حکومت سرکاری اسکولس کو مثالی ترقی دے رہی ہے لیکن ان خانگی اسکولس کی حالت ابتر ہوتی جارہی ہے ۔ جو سرکاری نصاب پر انحصار کرتے ہیں ۔ اقلیتی سال کے آغاز کے تقریباً دو ماہ ختم ہونے کو ہیں لیکن ابھی تک نصابی کتب فراہم نہیں کئے گئے ۔ اول تا 10 ویں جماعت سرکاری نصابی کتب کا استعمال ہر اسکول میں لازم ہے تاہم حکومت کی جانب سے مارکٹ میں یہ بکس دستیاب نہیں ۔ قیمت میں کم اور معیاری اعلی درجہ کے کتابیں ہونے کے باوجود سرکاری کتابیں ابھی تک فراہم نہیں ہو پائی ہیں۔ جو اسکولس انتظامیہ میں تشویش کا سبب بنے ہوئے ہیں ۔ حکومت کی جانب سے پرنٹ کرتے ہوئے ان نصابی کتابوں کو مارکٹ میں سربراہ کیا جاتا ہے جو خانگی پرنٹرز کے مقابل قیمت اور کوالیٹی و معیار کے لحاظ سے بہتر و اعلی درجہ کے ہوتے ہیں اور ان بکس کی خریداری میں کوئی شرائط کا اطلاق نہیںہوگا ۔ سرکاری سربراہی میں تاخیر کا اب خانگی پبلیشرز فائدہ اٹھانے لگے ہیں ۔ دونوں شہر میں خانگی اسکولس ہزاروں کی تعداد میں پائے جاتے ہیں ان میں چند ایسے بھی ہیں جو کم فائدے کیلئے خالص جذبہ کے تحت سلم علاقوں میں سرگرم ہیں اور خانگی اسکولس میں تعلیم حاصل کرنے والوں میں اکثریت اوسط درجہ کی عوام کی ہوتی ہے ۔ اب جبکہ دو ماہ کا عرصہ گذر چکا ہے لیکن مارکٹ میں بکس ہی دستیاب نہیں مجبوراً خانگی پبلیشرز کے ذریعہ بک حاصل کرنا ہوتو ورکس بکس و دیگر شرائط کو عائد کیا جارہا ہے اور کتابوں کی خریداری کیلئے دیگر اسٹیشنری اشیاء بالخصوص بک کو لازمی قرار دیا جارہا ہے ۔ جس سے اخراجات کا بوجھ بڑھ رہا ہے ۔ اول تا 10 ویں جماعت کیلئے نصابی کتب کی پرنٹنگ اور سربراہی حکومت کی ہوتی ہے ۔ اطلاعات کے مطابق دو ماہ کا عرصہ گذرنے کے باوجود بھی سوم ، چہارم اور پنجم جماعت کے نصابی کتب ابھی تک پرنٹ ہی نہیں ہو پائی ہے ۔ اول تا 10 ویں جماعت کے نصابی کتب میں تمام 70 اسباق ( ٹائٹل ) پائے جاتے ہیں ( وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ بے چینی اور تشویش کا شکار اکثر خانگی اسکولس انتظامیہ خانگی انتظامیہ خانگی پبلیشرس پر انحصار کرنے کیلئے مجبور ہے اور تعجب کی بات یہ ہے کہ اس ترقی پسند دور میں پورے شہر میں ایک ہی سرکاری کاونٹر پایا جاتا ہے اور وہ بھی منٹ کمپاونڈ کے احاطہ میں ہے جو خانگی اسکولس انتظامیہ اور اولیائے طلبہ کیلئے تکلیف دہ ثابت ہو رہا ہے ۔ اس سلسلہ میں خانگی اسکولس کے انتظامیہ میں فیڈریشن آف پرائیویٹ اسکولس منیجمنٹ جو خانگی اسکولس کی ایک باوقار اور مضبوط تنظیم تصور کی جاتی ہے کہ صدر فضل الرحمن خرم ڈائرکٹر ڈان ہائی اسکول نے بتایا کہ کتابوں کی عدم دستیابی سے اسکولس منیجمنٹ کو کافی مشکلات کا سامنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہر معاملہ میں خانگی کمپنیوں اور کارپوریٹ اشیاء کو اہمیت دی جاتی ہے لیکن کتابوں کے معاملہ میں سرکاری پرنٹ قیمت اور معیار میں سب سے بہتر اور اعلی درجہ کی ہیں ۔ لیکن عدم دستیابی ہی مشکلات کا سبب بنی ہوئی ہے چونکہ دو ماہ کا عرصہ گذرنے سے تعلیم کے متعلق اسکولس انتظامیہ کی تشویش بڑھتی جارہی ہے کہ آیا کم وقت میں کس طرح نصاب کا نشانہ پورا کیا جاسکے اور معیار کو کیسے برقرار رکھا جاسکے ۔ اس سلسلہ میں ایک اور خانگی اسکولس ایم ایس مشن اسکولس حسن نگر کے ذمہ دار محمد شوکت نے بھی ایسے ہی تکالیف کا تذکرہ کیا اور کہا کہ اکثر اسکولس کے انتظامیہ خانگی پبلیشرز پر اطمینان نہیں کرتے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ مارکٹ میں کتابوں کی سربراہی کیلئے موثر اقدامات کرتے ہوئے سرکاری اوٹ لیٹ قائم کرے جس کے سبب مشکل آساں اور سرکاری مشن بھی مکمل ہوگا اور خانگی اسکولس کے انتظامیہ کو راحت ہوگی جس کے سبب لاکھوں طلبہ کو فائدہ ہوگا ۔ چونکہ سرکاری کتابیں قیمت میں کم اور معیار میں اعلی ہوتی ہیں ۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ اس جانب توجہ مرکوز کرتے ہوئے موثر اقدامات کرے ۔