سرکاری اراضیات پر قبضوں کو باقاعدہ بنانے کے خلاف مقدمہ

ہائی کورٹ میں درخواست سماعت کے لیے قبول ، جی اوز کو چیلنج
حیدرآباد۔3 ۔ فروری (سیاست نیوز) ہائی کورٹ حیدرآباد نے تلنگانہ حکومت کی جانب سے سرکاری اور دیگر اراضیات پر قبضوں کو باقاعدہ بنانے سے متعلق فیصلے کے خلاف دائر کردہ درخواست کو سماعت کے لئے قبول کرلیا ۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ جی او نمبرس 58 اور 59 کے خلاف پروفیسر پی ایل وشویشور راؤ ، نمرتا جیسوال اور میر محمود علی نے رڈ درخواست داخل کی تھی ۔ چیف جسٹس کلیان جیوتی سنگھ گپتا اور جسٹس سنجے کمار پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے درخواست کی سماعت کرتے ہوئے ایڈوکیٹ جنرل کو اندرون 4 ہفتے جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ درخواست گزاروں کی جانب سے محمد عبدالقوی عباسی ایڈوکیٹ نے پیروی کی اور بحث کرتے ہوئے حکومت کے اس فیصلہ سے ہونے والے نقصانات سے واقف کرایا۔ ڈیویژن بنچ نے اپنے عبوری احکامات میں کہا کہ حکومت کے احکامات پر درخواست گزار نے جو سوالات اٹھائے ہیں، اس پر عدالت کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت کا یہ پالیسی فیصلہ ہے جو سماجی انصاف ، کمزور طبقات اور غریبوں کی بھلائی میں لیا گیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ حکومت کے اس فیصلہ کا عدالت کی جانب سے جائزہ لینا حق بجانب ہے۔ عبوری احکامات میں ڈیویژن بنچ نے کہا کہ اس سلسلہ میں حکومت کا کوئی بھی فیصلہ عدالتی احکام کے تابع ہوگا۔ حکومت کو ہدایت دی گئی کہ وہ عوام کو اس معاملہ کے عدالت میں زیر دوران ہونے سے واقف کرانے کیلئے اعلامیہ جاری کریں۔ تاکہ عوام اس مقدمہ میں فریق بن سکیں۔ قوی عباسی ایڈوکیٹ نے دلیل پیش کی کہ مذکورہ سرکاری احکامات کے سبب ناجائز قابضین اور لینڈ گرابرس کی حوصلہ افزائی ہوگی اور حقیقی غریب خاندانوں کی حق تلفی ہوسکتی ہے۔