سرکاری اجازت سے چلنے والے انجینئرنگ کالجس کی حالت ابتر

اساتذہ کی تعداد کم ‘ درکار لیبس کی سہولیات عدم دستیاب ‘خصوصی معائنوں میں انکشاف
حیدرآباد۔19اپریل(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کی جانب سے سال گذشتہ جن انجنیئرنگ کالجس کو داخلوں کی اجازت سرکاری طور پر دی گئی تھی اُن کی حالت داخلوں کی اجازت کورٹ سے حاصل کرنے والے تعلیمی اداروں سے بدتر ثابت ہوئی ہے ۔ حکومت نے گذشتہ تعلیمی سال کے آغاز سے قبل انجنیئرنگ کالجس کے معیار میں بہتری لانے کے نام پر 174 کالجس کو اجازت نامے فراہم نہیں کئے تھے لیکن کالج انتظامیہ نے عدالت سے رجوع ہوتے ہوئے اجازت حاصل کرلی تھی ۔ حکومت کیجانب سے جن 126کالجس کو اجازت نامہ فراہم کئے گئے تھے ان کالجس میں خصوصی ٹیموں کے معائنہ کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکومت نے جن کالجس کو اجازت نامہ فراہم کئے ہیں ان کی حالت اور بھی بدتر ہے ۔ ایمسیٹ 2014ء کے بعد انجنیئرنگ میں داخلے حاصل کرنے والے طلبہ کو سرکاری طور پر منظورہ 126کالجس میں داخلے حاصل کرنے میں کئی دشواریاں پیش آئی اسکے باوجود طلبہ نے داخلے حاصل کرلئے چونکہ حکومت نے 174 انجنیئرنگ کالجس کو اجازت دینے سے انکار کردیا تھا‘ چونکہ حکومت کا یہ استدلال تھا کہ مذکورہ کالجس درکار اساتذہ کی تعداد کے علاوہ معیار کو برقرار رکھنے میں ناکام ہورہے ہیں لیکن سرکاری طور پر جن کالجس کو اجازت فراہم کرتے ہوئے داخلے حاصل کرنے کیلئے ہری جھنڈی دکھائی گئی ان کالجس کی حالت سامنے آنے کے بعد یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ حکومت نے کوئی پیمانہ تیار نہیں کیا تھا بلکہ اپنی مرضی کے مطابق انجنیئرنگ کالجس کو اجازت نامہ جاری کئے تھے ۔ گذشتہ دنوں منظر عام پر آئی خصوصی ٹیموں کے معائنے کی رپورٹ میں ان 126کالجس میں جسے حکومت نے منظوری فراہم کی تھی حالت انتہائی خستہ ہے بلکہ درکار اساتذہ کی تعداد نہ ہونے کے علاوہ دیگر خامیاں بھی اُن کالجس میں پائی گئی ۔ اس رپورٹ میں ایک خاص بات یہ ہے کہ حکومت نے تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ ہی اجازت نامے جاری کردیئے تھے لیکن چند ہی ماہ میںہوئے قومی سطح کے اداروں کی ٹیموں کے سروے میں ان کالجس میں درکار لیاب کے علاوہ دیگر اہم ضروری چیزوں کی عدم موجودگی کی رپورٹ درج کی گئی ہے ۔ علاوہ ازیں درکار اساتذہ کی تعداد کی عدم موجودگی کی بھی شکایت موصول ہوئی ہیں ۔ سابق میں جن کالجس کو حکومت نے اجازت فراہم نہیں کی تھی اُن کالجس کے انتظامیہ نے عدالت سے رجوع ہوتے ہوئے داخلوں کے حصول کی اجازت حاصل کرلی تھی اور قومی سطح کے اداروں کے مشترکہ وفود نے ان اداروں کا معائنہ کرتے ہوئے بیشتر ادارہ جات کو منظوری فراہم کرنے کی سفارش کردی ہے ۔