سروے کے دوران شہر میں 60660 مکانات مقفل

عدم اندراج والے مکانات و جائیدادوں کی تفصیلات اکٹھا کرنے کی منصوبہ بندی
حیدرآباد 21 اگست ( سیاست نیوز) سروے کے دوران مقفل مکانات کی تفصیلات کے متعلق مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد غور کررہی ہے کہ آیا ان مکانات کے مالکین ہیں اور یہ مکانات کیونکر مقفل رہے نہ صرف مقفل مکانات کے متعلق تفصیلات اکٹھا کی جارہی ہیں بلکہ جن مکان مالکین نے سروے میں حصہ لینے سے انکار کیا ہے ان کی تفصیلات کے حصول کے متعلق بھی جائزہ لیا جارہا ہے ۔ تلنگانہ کے جامع سروے کے دوران مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں 60660 مکانات مقفل پائے گئے اور بڑی تعداد میں مقفل پائے جانے والے مکانات کا تعلق بلدی زون (ایسٹ) سے ہے جہاں 28981 مکانات مقفل پائے گئے ہیں ۔ ایل بی نگر میں 2011 مردم شماری کے مطابق 139419 مکانات موجود تھے لیکن گذشتہ دنوں ہوئے سروے کے دوران 206796مکان کا سروے کیاگیا۔ 246 مالکین نے سروے میں حصہ لینے سے انکار کیا جبکہ 22846 مکانات مقفل پائے گئے ہیں۔اسی طرح کاپرا میں 4562 مکانات مقفل پائے گئے جبکہ اُپل میں 15 مکانات مقفل تھے۔ پرانے شہر کے بلدی زون یعنی ساوتھ زون میں 2892 مکانات مقفل پائے گئے ہیں جن میں کوئی قیام پذیر نہیں تھا۔ چارمینار 1 میں 1341 مکانات مقفل تھے جبکہ 613 مالکین مکان نے سروے میں حصہ لینے سے انکار کیا ۔ اسی طرح چارمینار 2 میں 1201مکان مقفل اور مکان 24 مالکین مکان نے سروے میں حصہ لینے سے انکار کیا ہے ۔ راجندر نگر کا علاقہ جو میونسپل حدود کے اعتبار سے ساوتھ زون میں آتا ہے اس علاقہ میںبھی 350 مکانات مقفل جبکہ 250 مالکین مکان نے سروے میں حصہ لینے سے انکار کیا ہے۔بلدی عہدیدار مقفل مکانات کی تفصیلات اکٹھا کرنے کے ساتھ ساتھ ان جائیدادوں کے مالکین کے متعلق معلومات جمع کرنے کا منصوبہ تیار کررہے ہیں تا کہ اس بات کا پتہ چلایا جاسکے کہ آخر یہ جائیدادیں کس کی ہیں ؟ یا یہ جائیدادیں بے نامی تو نہیں ہیں جو عموماً سیاستدانوں کی ملکیت ہوا کرتی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس خصوص میں حکومت سے اجازت کے حصول کے بعد مذکورہ جائیدادوں کی تفصیلات اکٹھا کرنے کے عمل کا باضابطہ آغاز ہوجائے گا۔حکومت تلنگانہ کی جانب سے کروائے گئے سروے کے دوران جن جائیدادوں کی تفصیلات ریکارڈ میں نہیں آئی ہے ان کی تفصیلات کے حصول کیلئے علحدہ منصوبہ تیار کرنے کے متعلق غور کیا جارہا ہے تا کہ مکمل مواد یکجا کرنے میں کسی قسم کی دشواری نہ ہونے پائے ۔ سنٹرل زون بلدیہ کے حدود میں 8497مکانات مقفل پائے گئے ہیں جبکہ 1499 مالکین مکان نے سروے میں حصہ لینے سے انکار کیا ہے ۔ اسی طرح ویسٹ زون بلدیہ میں بھی 15107 مکانات مقفل اور 3061 مالکین مکان نے سروے میں حصہ لینے سے منع کردیا ۔ نارتھ زون میں جملہ 5183 مکانات مقفل پائے گئے اور 1059 مالکین مکان نے سروے میں حصہ لینے سے انکار کیا ہے ۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں جو مکانات مقفل پائے گئے ہیں ان کی تفصیلات کے حصول کیلئے بلدی عہدیداروں کے پاس میکانزم موجود ہے لیکن میکانزم کے استعمال کے ذریعہ مالکین مکان کی نشاندہی کا عمل مکمل نہیں کیا جاسکتا ۔ اسی لئے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے اعلی عہدیدار حکومت سے اس خصوص میں اجازت حاصل کرتے ہوئے محکمہ مال کے تعاون سے تفصیلات اکٹھا کرنے پر غور کررہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے کروائے جانے والے تلنگانہ جامع سروے میں حصہ لینے یا نہ لینے کے متعلق حیدرآباد ہائی کورٹ نے جو فیصلہ صادر کیا تھا اس کے اعتبار سے سروے میں حصہ لینا لازمی قرار نہیں دیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود عوام کی بڑی تعداد نے سروے میں حصہ لیتے ہوئے حکومت کو ڈاٹا اکٹھا کرنے میں تعاون کیا لیکن اب جو مکانات مقفل پائے گئے ان کے متعلق عہدیداروں میں تشویش پائی جاتی ہے کہ آخر اتنی شعور بیداری مہم کے باوجود اتنی بڑی تعداد میں مکانات کیوں مقفل رہے آیا ان مکانات کے مالکین نے کسی اور مقام جیسے اپنے آبائی علاقوں میں سروے میں حصہ لیا یا پھر وہ موجود نہیں رہے ، اس کا اندازہ اسی وقت لگایا جاسکتا ہے جب تمام معلومات یکجا ہوجائیں گی کیونکہ اگر ان مقفل مکانات کے مالکین نے کسی اور مقام پر سروے میں حصہ لیا ہوگا تو ضرور تفصیلات اور اثاثوں میں اُن مکانات کی تفصیل درج کروائی ہوگی۔