سرحدی تنازعہ کی شب بھر میں یکسوئی ناممکن : چین

بیجنگ ۔ 13 مئی (سیاست ڈاٹ کام) چین نے وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ کے موقع پر پیچیدہ سرحدی تنازعہ کی یکسوئی کی توقعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ چینی صدر ژی جن پنگ کے ساتھ ان (مودی) کی بات چیت کے دوران اگرچہ اس مسئلہ پر بھی گفتگو ہوسکتی ہے لیکن یہ مسئلہ راتوں رات حل نہیں کیا جاسکتا۔ چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چن ینگ نے کہا کہ ’’ہم اس (مودی کے) دورہ کے منتظر ہیں‘‘۔ نریندر مودی کی کل یہاں تاریخی شہر زیان میں آمد اور صدر زی سے غیر رسمی بات چیت کے ساتھ شروع ہونے والے تین روزہ دورہ پر تبصرہ کرتے ہوئے ہوا نے یہ تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’سرحدی سوال مشترکہ تشویش کا مسئلہ ہے اور بات چیت کے دوران اس کا احاطہ کیا جائے گا۔ دونوں فریق اس مسئلہ کو جلد سے جلد حل کرنے پر متفق ہیں اور اس ضمن میں ہم عظیم مساعی کررہے ہیں‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’سرحدی مسئلہ کی عاجلانہ یکسوئی سے دونوں طرف کے عوام کی امنگوں کی تکمیل ہوگی اور ہم سب جانتے ہیں کہ سرحدی سوال تاریخ کا چھوڑا ہوا ہے اور اس کو راتوں رات حل نہیں کیا جاسکتا‘‘۔ ہوا نے کہا کہ ’’جانبین اس سوال پر خصوصی نمائندگان کے میکانزم کے ذریعہ ایک دوسرے کے رابطہ میں ہیں اور سرحدی مسئلہ سے متعلقہ دیگر میکانزمس پر بھی رابطہ برقرار ہے۔ اس ضمن میں پیشرفت جاری ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی تنازعہ کی ’’باہمی طور پر قابل قبول، منصفانہ اور واجبی یکسوئی‘‘ کیلئے چین بھی ہندوستان کے ساتھ رابطہ میں رہنے سے اتفاق کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’اس مسئلہ کی قطعی حل تک ہم سرحدی علاقوں پر امن و دوستی کی برقراری کیلئے مشترکہ مساعی کریں گے۔ میں سمجھتی ہوں کہ یہ مساعی دونوں طرف مشترکہ مفادات کیلئے فائدہ مند ہوگی‘‘۔ انہوں نے چین اور ہند دونوں کیلئے مودی کے اس دورہ کو اہمیت کا حامل قرار دیا اور کہا کہ ’’ہم اس بات پر متفق ہیں کہ یہ دورہ باہمی تعلقات میں مزید فروغ کا باعث ہوگا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ملاقاتوں کے دوران دونوں ممالک کے مابین حکمت عملی کی ساجھیداری کو مزید وسعت دینے پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔ دونوں طرف یہ قوی توقعات ہیں کہ دونوں ملکوں کی طاقتور قیادتیں سرحدی تنازعہ کی یکسوئی کیلئے ایک منفرد موقع فراہم کریں گی کیونکہ خصوصی نمائندوں کے مذاکرات کے 18 راونڈس مکمل ہوچکے ہیں اس دوران کچھ اہم پیشرفت بھی ہوئی ہے۔ چین کا کہنا ہیکہ سرحدی تنازعہ صرف اروناچل پردیش میں واقع 2000 کیلو میٹر رقبہ تک محدود ہے لیکن ہندوستان کا ادعا ہیکہ یہ سرحدی تنازعہ 4000 کیلو میٹر طویل سرحد کا احاطہ کرتا ہے جس میں بالخصوص اقصائی چین بھی شامل ہے جس پر چین نے 1962ء کی جنگ میں قبضہ کرلیا تھا۔