سدھو، باجوا سے بغلگیرہونے سے گریز کرسکتے تھے: نرملا سیتارامن

نئی دہلی 18 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیر دفاع نرملا سیتارامن نے آج کہاکہ پاکستان کے سربراہ فوج سے نوجوت سنگھ سدھو کا بغلگیر ہونا اپنے ملک کے سپاہیوں پر اثرانداز ہوا ہے اور پنجاب کے وزیر اس سے گریز کرسکتے تھے۔ واضح رہے کہ کرکٹر سے سیاستداں بننے والے سدھو نے عمران خان کی بحیثیت وزیراعظم حلف برداری تقریب میں شرکت کے لئے دورہ پاکستان کے موقع پر وہاں فوج کے سربراہ قمر جاوید باجوا سے بغلگیر ہوتے ہوئے ایک تنازعہ پیدا کردیا تھا۔ اُنھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ جنرل باجوا نے اُنھیں مطلع کیا تھا کہ پاکستان کی حکومت ہندوستانی ریاست پنجاب سے آنے والے سکھ یاتریوں کی سہولت کے لئے اپنی سرحد پر واقع کرتارپور راہداری کھولنے کے لئے کام کررہی ہے۔ وزیر دفاع نرملا سیتارامن نے انڈین ویمنس پریس کور سے بات چیت کے دوران مزید کہاکہ ’’سدھو کے بے پناہ چاہنے والے ہیں … ان کے رتبہ کا کوئی شخص وہاں (پاکستان) جاتا ہے اور اُس فوج کے سربراہ سے بغلگیر ہوتا ہے جو ایک ایسی فوج ہے جس کے بارے میں ہندوستان میں ناخوشگوار جذبات و احساسات پائے جاتے ہیں تو سپاہیوں پر یقینا اس کا اثر ہوگا۔ اس سے عوام کے حوصلے پست ہوں گے۔ مَیں چاہتی تھی کہ سدھو اس (بغلگیر ہونے) سے گریز کرتے تو بہتر ہوتا‘‘۔