سجادگان اور متولیان کیخلاف اسپیشل آفیسر وقف بورڈ کا مجرموں جیسا سلوک

حیدرآباد ۔7 ۔ مئی ۔ (سیاست نیوز) شہر کی نمائندہ مسلم تنظیموں اور جماعتوں کے قائدین پر مشتمل ایک وفد نے آج چیف سکریٹری پی کے موہنتی سے ملاقات کی اور اسپیشل آفیسر وقف بورڈ شیخ محمد اقبال کی جانب سے درگاہوں کے متولیوں کے خلاف یکطرفہ کارروائیوں کی شکایت کی ۔ وفد نے جس کی قیادت جناب محمد عبدالرحیم قریشی صدر مجلس تعمیر ملت کر رہے تھے، چیف سکریٹری کو ایک یادداشت پیش کی جس میں گزشتہ تین ماہ کے دوران اسپیشل آفیسر کی جانب سے کی گئی کارروائیوں کی تفصیل بیان کی گئی۔ وفد نے کہا کہ ایک منصوبہ بند سازش کے تحت سجادگان اور متولیان کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے تاکہ عوام نے ان کا وقار مجروح ہو۔ وفد نے چیف سکریٹری سے مطالبہ کیا کہ اسپیشل آفیسر کو فوری تبدیل کیا جائے تاکہ وقف بورڈ کی کارکردگی کو بہتر بنایا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ کو تباہی سے بچانے کیلئے اسپیشل آفیسر کی تبدیلی ناگزیر ہے۔ چیف سکریٹری نے مسلم نمائندہ مذہبی شخصیتوں کی بغور سماعت کی اور تیقن دیا کہ وہ ان کی یادداشت ریاستی گورنر ای ایس ایل نرسمہن کو پیش کریں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف سکریٹری نے متولیان و سجادگان کے خلاف یکطرفہ کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ وفد میں مولانا سید قبول پاشاہ قادری شطاری جنرل سکریٹری انجمن سجادگان و متولیان ، مولانا سید شاہ علی اکبر نظام الدین حسینی صابری سجادہ نشین و متولی درگاہ حضرت شاہ خاموش ، مولانا قاضی اعظم علی صوفی صدر کل ہند جمیعت المشائخ ، مولانا سید مسعود حسین مجتہدی رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ، مولانا محمود پاشاہ قادری ذرین کلاہ، مولانا اولیاء حسینی اور دوسرے شامل تھے۔ اس سے قبل مولانا سید اکبر نظام الدین حسینی نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے متولی کی حیثیت سے ان کی معطلی کو غیر قانونی اور وقف قواعد کی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے اسپیشل آفیسر وقف بورڈ کو چیلنج کیا کہ وہ ان پر عائد کردہ الزامات کے سلسلہ میں کسی بھی ٹی وی چیانل پر مباحث کیلئے تیار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ چیف اگزیکیٹیو آفیسر وقف بورڈ اور وقف بورڈ کے لاء آفیسر سے بھی وہ مباحث کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے اوقافی جائیدادوں کی فروخت اور حسابات پیش نہ کرنے سے متعلق الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ انصاف کا تقاضہ ہے کہ کسی بھی شخص کے خلاف شکایت کی صورت میں کارروائی سے قبل اسے نوٹس جاری کی جاتی ہے لیکن اسپیشل آفیسر وقف بورڈ نے کسی وجہ نمائی نوٹس کے بغیر ہی معطل کرنے کے احکامات جاری کردیئے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ وقف ایکٹ کے تحت کسی بھی متولی یا ادارہ کے خلاف الزامات کی صورت میں کورٹ آف انکوائری قائم کی جاتی ہے اور اس میں الزامات ثابت ہونے کی صورت میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سے ایف آئی آر درج کرنے کی اجازت حاصل کی جانی چاہئے ۔ مولانا اکبر نظام الدین نے کہا کہ اسپیشل آفیسر وقف بورڈ نے تمام قواعد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سجادگان اور متولیان کے خلاف راست طور پر ایف آئی آر درج کردیا ۔ بحیثیت پولیس آفیسر وہ ہر شخص کو مجرم کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور پولیس آفیسر کی طرح کارروائی کر رہے ہیں۔ مولانا اکبر نظام الدین نے الزام عائد کیا کہ اسپیشل آفیسر ایک مخصوص مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے اداروں کو نشانہ بنانے کے مقصد سے کام کر رہے ہیں اور ایک ریٹائرڈ آئی اے ایس عہدیدار کے بشمول بعض بلیک میلرس اور بروکرس اس سازش میں شامل ہیں۔ انہوں نے شیخ محمد اقبال کی کارروائیوں کو جانبدارانہ قرار دیتے ہوئے سوال کیا کہ اگر وہ غیر جانبدار ہوتے تو وہ ہائی کورٹ اور وقف ٹریبونل میں ان کے خلاف کیوٹ داخل نہ کرتے۔ انہوں نے کہا کہ

گزشتہ دو دہوں سے ان کے خلاف کی جارہی سازشوں کے تحت وقف بورڈ نے کارروائی کی۔ مولانا اکبر نظام الدین نے درگاہ شاہ خاموش کے تحت اوقافی اراضیات سے متعلق وضاحت کی اور بتایا کہ مشروط الخدمت جائیداد کا مطلب عطیہ سلطانی نہیں ہوتا بلکہ ذاتی صرفہ سے خرید کر بھی وقف کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ درگاہ کے تحت جائیدادیں ابتداء میں عطیات کے تحت اور 1962 ء میں اسے وقف قرار دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 1992 ء میں اسمبلی کی کمیٹی کی رپورٹ کے بعد وقف بورڈ نے ان سے وضاحت طلب کی تھی۔ 1999 ء میں تمام جائیدادوں کے بارے میں تفصیلی جواب داخل کیا گیا۔ 2001 ء میں پھر ایک مرتبہ انہوں نے وقف بورڈ کو جواب دیا ۔ مولانا اکبر نظام الدین نے کہا کہ وقف بورڈ کے الیکٹورل کالج میں ان کے نام کی شمولیت کے بعد بعض مفاد پرست عناصر ہائی کورٹ سے رجوع ہوئے لیکن عدالت نے ان کی درخواست کو مسترد کردیا۔ اس کے بعد پھر ایک مفاد عامہ کی درخواست داخل کی گئی جسے عدالت نے مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ اسپیشل آفیسر اوقاف کی بنیاد سے ہی واقف نہیں ہیں۔ خانہ جی گوڑہ میں 84 ایکر اراضی کی فروخت کے الزام کو سراسر جھوٹ اور

دروغ گوئی قرار دیتے ہوئے مولانا اکبر نظام الدین نے کہا کہ ان کا کوئی جی پی اے نہیں ہے۔ اگر وقف بورڈ کے پاس اس طرح کا کوئی دستاویز ہے تو وہ منظر عام پر لائیں۔ انہوں نے کہا کہ 1958 ء سے جو جائیدادیں ان کے قبضے میں نہیں ہیں اور جن کے بارے میں وہ لاعلم ہیں، ان کے تحفظ کے بارے میں کیسے سوال کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صابر گلشن ریونیو ریکارڈ میں امیر پورہ کے نام سے درج ہے۔ 70 سال قبل ان کے دادا مولانا صابر حسینی نے اسے باغ میں تبدیل کیا تھا، جسے بعد میں صابر گلشن کا نام دیا گیا۔ عطیات کی جانب سے مولانا اکبر نظام الدین کو وراثت کا جو منتخب منظور کیا گیا اس میں صابر گلشن کا منشائے وقف حضرت شاہ خاموش کے پیر و مرشد کی سالانہ فاتحہ کے موقع پر لنگر کا اہتمام کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہر سال وقف بورڈ کو آمدنی کے حسابات باقاعدہ پیش کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حقائق کو چھپانے کی کوشش کرتے ہوئے اسپیشل آفیسر کی جانب سے اخبار کے ذریعہ معطلی کا اعلان منصوبہ بند سازش کو ثابت کرتا ہے۔