سبسیڈیز پر آئندہ لائحہ عمل حکومت کے زیرغور

نیویارک 3 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) یہ کہتے ہوئے کہ معقولیت کا کچھ عنصر بھی ہونا چاہئے۔ مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے کہاکہ حکومت آئندہ مرحلہ کی کارروائی پر سبسیڈیز کے تعلق سے غور کرے گی۔ وہ کولمبیا یونیورسٹی کے اسکول برائے بین الاقوامی و اُمور عامہ کے طلباء اور اساتذہ سے خطاب کررہے تھے۔ تاہم اُنھوں نے اپنے تبصرہ کی وضاحت نہیں کی اور نہ ہی حکومت کے منصوبوں اور اُن پر عمل آوری کے وقت کا انکشاف کیا۔ جیٹلی نے مالدار ترین افراد پر اضافی 2 فیصد سرچارج عائد کرنے اور کارپوریٹ ٹیکس کو کم کرکے 30 فیصد سے مرحلہ وار انداز میں 25 فیصد کردینے کا اعادہ کیا اور کہاکہ تمام استثنیٰ برخاست کردیئے جائیں گے۔ حکومت ہند سبسیڈیز کے نظریہ کا ہی مخالف ہے لیکن اِس میں بھی کچھ معقولیت ہونا چاہئے۔ کئی لوگ رعایتی قیمتوں کے مستحق ہیں اور اُنھیں رعایتیں جاری رکھی جائیں گی لیکن مستثنیات بھی ہونا چاہئے اور ہم نے اُن شعبوں کی نشاندہی کا آغاز کردیا ہے جو زیادہ آرام دہ ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ بجٹ میں اُنھوں نے تمام عوام سے اپیل کی ہے کہ جو ٹیکس ادا کرنے کے طبقات میں اعلیٰ ترین زمرہ میں شامل ہیں کہ رضاکارانہ طور پر اپنی سبسیڈیز سے دستبرداری اختیار کرلیں۔ یہ پہلا اقدام ہے۔ دوسرے مرحلہ کی کارروائی حکومت کے زیرغور ہے۔ اُنھوں نے دولت ٹیکس کی برخاستگی اور 2 فیصد اضافی سرچارج برائے مالدار ترین افراد کی جگہ دوسرا ٹیکس عائد کرنے کی بات بھی کہی اور کہاکہ دولت ٹیکس زیادہ لاگت اور کم فائدہ بخش ثابت ہوا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ دولت ٹیکس سے دستبرداری کے ذریعہ وہ چاہتے ہیں کہ طریقہ کار کو سادہ بنایا جائے۔