سبسڈی اخراجات میں 1 فیصد کٹوتی ممکن

فوائد کو مستحقین تک پہونچانا ضروری : مشیر فینانس
نئی دہلی 10 جون ( سیاست ڈاٹ کام ) حکومت عوام کو کسی طرح کی خاص پریشانیوں کا شکار کئے بغیر اپنے سبسڈی اخراجات کو جملہ گھریلو پیداوار کے ایک فیصد تک کم کرسکتی ہے ۔ وزارت فینانس کی اعلی معاشی مشیر ایلا پٹنائک نے یہ بات بتائی ۔ انہوں نے یہاں فیڈریشن آف انڈین چیمبرس آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں ایک کتاب کی رسم اجرا انجام دیتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں سمجھتیں کہ اقتصادی استحکام زیادہ مشکل کام ہے کیونکہ جب آپ کئی اسکیمات کا جائزہ لیں تو آپ دیکھیں گے کہ ان پر جو اخراجات ہو رہے ہیں ان میں کچھ نقائص ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سبسڈی ادا کرتی ہے ۔ کئی اسکیمات میں سبسڈی مناسب انداز میں نہیں ہے ۔

سبسڈی کے فوائد مستحقین تک پہونچانے پر بھی توجہ نہیں دی جاتی ۔ اگر ایک سیاسی عزم ہو تو پھر ہم سبسڈی اخراجات کو جملہ گھریلو پیداوار کے ایک فیصد تک کرسکتے ہیں اور ایسا کرتے ہوئے عوام کو بھی زیادہ کچھ مسائل درپیش نہیں ہونگے ۔ انہوں نے تاہم کہا کہ ان کے خیال میں اقتصادیات کو مستحکم کرنا ایک مشکل کام ہے کیونکہ معاشی رفتار بہت سست ہوگئی ہے اور افراط زر کی شرح میں اضآفہ ہوتا جا رہا ہے ۔ اس کے باوجود یہ اتنا مشکل بھی نہیں ہے کہ اسے نا ممکن کہا جاسکے ۔ ایلا پٹنائک کا یہ خیال تھا کہ ابھرتی ہوئی معیشتیں ترقی کی رفتار سے متاثر ہوتی ہیں اور اس کیلئے ضروری ہے کہ ہندوستانی پالیسی سازی میں اس کا خیال رکھا جائے ۔ ایلا پٹنائک نے کہا کہ ہندوستان میں میکرو معیشت اور اقتصادی استحکام مشکوک ہوتا ہے ۔ ایسے میں ادارہ جاتی مشنری کو میکرو معیشت اور فینانس کیلئے بالکل غیر موثر کردیا گیا ہے اور اس میں سدھار پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔