حیدرآباد ۔ 4 ۔ فروری : ( نمائندہ خصوصی ) : اگر کسی طالب علم یا اسے پڑھانے والے استاذ سے یہ پوچھا جائے کہ ہمارے دستور میں کتنی دفعات ہیں ۔ بنیادی حقوق اور فرائض کیا ہیں ؟ ہندوستان کی کتنی ریاستیں اور مرکز زیر انتظام علاقے ہیں ؟ کسی ریاست کا چیف منسٹر کون ہے ؟ عہدہ وزارت امور خارجہ پر کون فائز ہیں ؟ ارکان پارلیمان کی تعداد کتنی ہیں ، لوک سبھا کے اسپیکر کون ہیں ؟ مرکزی وزیر اقلیتی بہبود کے باوقار عہدہ پر فائز ہوئی شخصیت کا نام کیا ہے ؟ آندھرا پردیش و تلنگانہ میں اسمبلیوں کی کتنی نشستیں ہیں اور ان دونوں ریاستوں سے پارلیمنٹ کے لیے کتنے ارکان کا انتخاب عمل میں لایا جاتا ہے ؟ اور کس حلقہ سے کون منتخب ہوا ہے ۔ ہمیں یقین ہے کہ وہ ان تمام سوالات کے جوابات نہیں دے پائیں گے ۔ لیکن ہمارے شہر سے چند کیلو میٹر دور حیات نگر منڈل کے ایک علاقہ کواڑی پلی کی رہنے والی ایک ساڑھے چھ سالہ طالبہ نرجاندھی گپتا کے پاس ان تمام سوالات کے جوابات ہیں ۔ جس طرح ایک کمپیوٹر میں ہر سوال کا جواب ہوتا ہے ۔ اسی طرح یہ چھوٹی سی لڑکی اس قدر ذہین ہے کہ وہ برجستہ انداز میں ہر سوال کا جواب دیتی ہے ۔
کواڑی پلی میں واقع بھاگیہ نگر پبلک اسکول میں دوسری جماعت میں زیر تعلیم نرجا کی ذہانت اور یادداشت کا مشاہدہ کرنے والے دنگ رہ جاتے ہیں ۔ مستقبل میں ملک کے عہدہ صدر جمہوریہ پر فائز ہونے کی تمنا رکھنے والی نرجا تلنگانہ کے 119 ارکان اسمبلی ان کے حلقوں ، ہماری ریاست کی پارلیمنٹ میں نمائندگی کرنے والے ارکان اور ان کے متعلقہ حلقوں ، کلکٹران ، ضلع پریشد اور اس کے صدور ، تلنگانہ کے وزراء ، آندھرا کے 175 ارکان اسمبلی اور ان کے حلقوں ، ملک کی تمام ریاستوں ان کے چیف منسٹرس ، راجیہ سبھا کے ارکان اور ان کی ریاستوں مختلف مذاہب اور ان کی مذہبی کتابوں ، دنیا کے تمام ممالک اور ان کے دارالحکومتوں ، متعدد کتابوں اور ان کے مصنفین کے نام انگریزی قواعد وغیرہ کے بارے میں پوچھے جانے والے ہر سوال کا جواب کمپیوٹر سے کہیں زیادہ تیزی سے دیتی ہے ۔ نرجا گپتا کو اس مقام پر پہنچانے میں اس کے نانا نارائن گپتا کا اہم رول ہے ۔ جنہوں نے اپنی ساری زندگی اس ذہین بچی کو کامیابی و کامرانی کی بلندیوں پر پہنچانے کے لیے وقف کردی ہے ۔
اپنی کمزور بصارت اور غربت کے باوجود نارائن گپتا نرجا کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں نارائن گپتا نے جو اپنی زندگی کی گاڑی چلانے کے لیے ٹائپسٹ کی حیثیت سے کام کرتے ہیں اور بچوں کو ٹیوشنس بھی پڑھاتے ہیں بتایا کہ ایک ایسے وقت جب کہ نرجا کی عمر صرف ساڑھے تین سال تھی وہ حسب معمول چہل قدمی کررہے تھے ۔ نرجا بھی ان کے ہمراہ تھی ۔ راستے میں ایک گڑھا آیا نرجا کو انہوں نے بتایا کہ گڑھے کو انگریزی میں Pit کہتے ہیں ۔ واپسی کے دوران جب وہی گڑھا نظر آیا تب نرجا نے اپنے نانا سے کہا کہ دیکھ کر چلئے آگے Pit ہے ۔ تب ہی نارائن گپتا کو اندازہ ہوگیا کہ نرجا غیر معمولی ذہانت کی حامل ہے اور ایسے بچوں کو قدرت ذہانت کے ساتھ ساتھ کئی ایک خوبیوں سے نوازتی ہے ۔ نارائن گپتا نے مزید بتایا کہ وہ روزانہ 15 منٹ تک نرجا کو عام معلومات بہم پہنچاتے ہیں ۔ جسے وہ از بر یاد کرلیتی ہے وہ اپنی نواسی کو اس کی ذہانت کے باعث جیتا جاگتا کمپیوٹر قرار دیتے ہیں ۔
نارائن گپتا مزید بتاتے ہیں کہ نرجا کے پیدا ہونے کے دو سال بعد ہی اس کے والد نے شیرخوار نرجا اور اس کی ماں پونی گپتا کو چھوڑ کر بنگلور منتقل ہوگئے کیوں کہ وہ نرجا کے ایک لڑکی پیدا ہونے پر کافی برہم تھے وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کے گھر میں کوئی لڑکی پیدا ہو ۔ اس تکلیف دہ صورتحال کا شکار نرجا کی ماں پونی گپتا نے زندگی سے مایوس ہو کر حسین ساگر میں چھلانگ لگاکر خود کشی کی کوشش کی لیکن انہیں بچالیا گیا اور پھر نیک دل انسان نارائن گپتا نے ان دونوں ماں بیٹی کی پرورش کی ذمہ داری لیتے ہوئے ان کی ایک نئی زندگی کا آغاز کیا ۔ نارائن گپتا کے خیال میں نرجا اپنی غیر معمولی ذہانت کے باعث ملک میں ایک خصوصی موقف عطا کرے گی خاص طور پر ان بچیوں کے لیے وہ ایک امید کی کرن ہے جن کے بچی پیدا ہونے پر ان کے ماں باپ مایوس ہوجاتے ہیں ۔ انہوں نے ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں سے بھی نرجا کی ملاقات کروائی جس پر انہوں نے اس کی ہر لحاظ سے مدد کرنے کا وعدہ کیا ۔ ویسے بھی نرجا کے نانا اپنی قابل نواسی کے لیے اسپانسر کی تلاش میں ہیں ۔ بہر حال نرجا کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک دن ملک کے لیے بہت بڑا اثاثہ ثابت ہوگی ۔۔