سارک چوٹی کانفرنس :مودی، نواز شریف میں دوریاں

کھٹمنڈو۔/26نومبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) وزیر اعظم نریندر مودی اور پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف نے آج سارک چوٹی کانفرنس میں ایک ہی شہ نشین پر بیٹھنے کے باوجود ایک دوسرے سے مصافحہ نہیں کیا، نظریں نہیں ملائیں اور نہ ہی خیرسگالی کے جذبہ کا اظہار کیا۔ تقریباً 3گھنٹے سارک اجلاس کے دوران یہ دونوں وزرائے اعظم شہ نشین پر موجود رہے۔ وزیر اعظم مودی اور ان کے پاکستانی ہم منصب نواز شریف جو ایک دوسرے سے صرف دو نشستوں کی دوری پر بیٹھے تھے، دونوں نے ایک دیکھا تک نہیں اور 8 رکنی علاقائی گروپ کے 18ویں اجلاس سے اپنے خطاب کے بعد اور اس سے قبل قریب سے گزرنے کے باوجود دونوں نے جذبہ خیرسگالی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ ان کی دوریاں یکساں طور پر پُراسرار تھیں۔ مودی اور نواز شریف کے درمیان مالدیپ اور نیپال کے قائدین بیٹھے ہوئے تھے۔ اگرچہ دونوں قائدین کے درمیان کوئی ملاقات ’طئے‘ نہیں لیکن اس موقع پر دونوں کے درمیان خوشگواری اور رسمی بات چیت کی توقع تھی کیونکہ یہ دونوں ایک دوہی کانفرنس میں شریک ہیں۔ جمعرات کو اس دو روزہ کانفرنس کا اختتام عمل میں آئیگا۔ منگل کو نواز شریف نے بات چیت کیلئے پہل کی ذمہ داری ہندوستان پر ڈالتے ہوئے کہا تھا کہ بات چیت کیلئے ہندوستان کو ہی آگے آنا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ مذاکرات کی منسوخی کا فیصلہ نئی دہلی کا یکطرفہ اقدام رہا، لہٰذا یہ بات چیت ہندوستان کو شروع کرنی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کا عمل ہندوستان کے اختیار میں ہے۔ ہندوستان کا کہنا ہے کہ ’’بامعنی مذاکرات ‘‘ کیلئے بعض خاص اقدامات کرنا ہوگا۔ جب ہندوستانی وزارت خارجہ ترجمان سید اکبر الدین سے نواز شریف کے ان ریمارکس کے بارے میں پوچھا گیاتو انہوں نے کہا کہ بامعنی مذاکراتی کیلئے ہم پہلے ہی سے تیار ہیں اور یہ بات ہم بلند آواز میں کہتے آرہے ہیں۔ بامعنی مذاکرات کا مطلب ڈپلومیسی ہے۔ پاکستان میں وہ لوگ واضح طور پر جانتے ہیں کہ ہم نے بامعنی مذاکرات کی بات کیوںکہی اور اس کا کیا مطلب ہے۔ وہ لوگ ہر چیز جانتے ہیں۔

’’دہشت گردی کیخلاف سارک عہد پورا کرے‘‘
مودی کا سارک اجلاس سے خطاب ، پاکستانی رویہ کے سبب کوئی معاہدہ نہ ہوا
کٹھمنڈو۔26 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کا اکڑ پن آج سارک چوٹی اجلاس کی ناکامی کا بموجب بن گیا کہ وہ 8 رکن اقوام کے مابین اپنے افتتاحی روز عظیم تر رابطے کے بارے میں معاہدوں طئے نہیں کرپائے، جبکہ وزیراعظم نریندر مودی نے ٹھوس طور پر اراکین پر زور دیا کہ دہشت گردی سے لڑائی کیلئے اپنے عہد کی تکمیل کریں۔ چوٹی اجلاس کے افتتاحی روز جو ممبئی میں 2008ء کے پاکستان کی مبینہ سرپرستی والے دہشت گردانہ حملوں (جس میں 166 افراد ہلاک ہوگئے تھے) کے 6 سال کی تکمیل کے موقع پر شروع ہوا، مودی نے اپنے پاکستانی ہم منصب نواز شریف اور چھ دیگر قائدین سے کہا کہ ’’ہم کھوئی ہوئی زندگیوں کا بے پایاں درد (بدستور) محسوس کرتے ہیں‘‘۔ نواز شریف نے اپنی باری میں سرے سے دہشت گردی کا مسئلہ ہی نہیں چھیڑا ، جس پر دیگر قائدین بشمول نئے افغان صدر اشرف غنی اور سری لنکائی صدر مہندا راجہ پکسے نے اپنی تقاریر میں ذکر کیا۔ دریں اثناء مودی اور نواز شریف کے درمیان غیرمعلنہ ملاقات کا معمولی امکان بھی بدستور قیاس آرائی کا موضوع بنا ہوا ہے۔ ان دونوں کی سرد مہری نے اس حقیقت کو اجاگر کردیا کہ انہوں نے دو روزہ چوٹی اجلاس کی افتتاحی تقریب میں ایک دوسرے کو دیکھ کر رسمی جملے ادا کرنا تک گوارا نہیں کیا، تاہم سارک ضیافت کے موقع پر مختصر گفتگو کے تعلق سے ہنوز باتیں ہورہی ہیں۔ پاکستان نے ایک دوسرے کے ساتھ رابطے سے متعلق معاہدوں پر دستخط کو آگے بڑھنے بھی نہیں دیا جبکہ ان معاہدوں میں موٹر وہیکل اگریمنٹ بھی شامل ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ اس نے ہنوز اپنا داخلی عمل مکمل نہیں کیا ہے اور اس معاملے میں دیگر سارک ممالک بشمول سری لنکا ، بنگلہ دیش اور ہندوستان کی پرزور کوششوں سے صرفِ نظر اختیار کی گئی۔ وزیراعظم مودی نے خطہ میں بہتر رابطے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے 18 ویں سارک چوٹی اجلاس میں اپنی تقریر کے دوران کہا کہ ’’ہمارے تعلقات اس وقت مضبوط ہوتے ہیں جب ہم ہمارے ملکوں کے عام شہریوں کی زندگیوں کو جوڑ دیں۔ یہی وجہ ہے کہ ریل اور سڑک کے ذریعہ رابطے اور خدمات نہایت اہم ہیں‘‘۔