سارک ممالک کو باہمی صیانت پر حساس رہنا چاہئے

نئی دہلی۔ 8 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر خارجہ سشما سوراج نے پاکستان پر درپردہ تنقید کرتے ہوئے آج دہشت گردی کو جنوبی ایشیا کو درپیش انتہائی حساس چیلنجس میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے صرف ہر ملک کی جانب سے یہ احساس کرنے کے نتیجہ میں کہ ’’دہشت گرد اچھا یا برا نہیں ہوتا‘‘ ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام دہشت گردوں کو ایک جیسا سمجھنا چاہئے۔ انہوں نے سارک ممالک سے کہا کہ ایک دوسرے کے صیانتی اندیشوں کے بارے میں انہیں حساس ہونا چاہئے اور کسی بھی ایسی سرگرمی کی حوصلہ افزائی نہیں کرنی چاہئے اور نہ اس میں ملوث ہونا چاہئے جو پڑوسی ملک کی فلاح و بہبود اور صیانت کے لئے مضر ہو۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورت میں ہی ہم حقیقی، تعاون پر مبنی جنوب ایشیائی صیانتی برادری تشکیل دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا یہ تبصرہ جموں و کشمیر میں پاکستانی عسکریت پسندوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے پیش نظر منظر عام پر آیا ہے جن سے ایک ماہ سے بھی کم مدت میں 14 ہندوستانی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔ فوج اور صیانتی اداروں کو یقین ہے کہ عسکریت پسند سرحد پار سے آئے تھے۔ معاشی فروغ اور علاقائی سماجی ترقی کی بات کرتے ہوئے سشما نے کہا کہ پرامن اور محفوظ ماحول میں ہی ایسا ممکن ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورے جنوب ایشیائی علاقہ کو درپیش انتہائی سنگین چیلنجوں میں سے دہشت گردی بھی ایک ہے اور اس کا سامنا اسی صورت میں ممکن ہے جبکہ تمام علاقائی ممالک محسوس کرلیں کہ اچھے یا برے دہشت گرد نہیں ہوتے، تمام ایک جیسے ہوتے ہیں۔ وہ جنوب ایشیائی یونیورسٹی کے زیراہتمام منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کررہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی دہشت گردی سے مقابلہ کا سوال پیدا ہوتا ہے، پاکستان ہمیشہ اپنے پسندیدہ دہشت گردوں کی تائید کرتا ہے۔ تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے جبکہ ہندوستان کے دشمن دہشت گرد گروپس اور دہشت گردوں کو پروان چڑھایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پڑوسی کی حیثیت سے ہمیں ایک دوسرے کے صیانتی اندیشوں کے بارے میں حساس رہنا چاہئے اور نہ تو خود کسی ایسی سرگرمی میں ملوث ہونا چاہئے اور نہ اس کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے جو پڑوسی ملک کی فلاح و بہبود اور صیانت کے لئے مضر ہو۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں ، مالیہ اور تربیت فراہم کرنے سے انکار کرکے اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہئے کہ ہم اپنی بین الاقوامی اور علاقائی ذمہ داریوں کی تکمیل کرتے ہیں۔