مکان جلنے پر صبر ، اللہ کی آزمائش ، ٹولی چوکی کے عبدالقدیر کا اظہار خیال
حیدرآباد ۔ 16 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : گھر کی تمام اشیاء جل کر خاکستر ہوگئیں ۔ فریج جل کر سکڑ گیا ۔ ٹی وی کا ایل ای ڈی سیٹ آگ کی گرمی سے پگھل کر رہ گیا ۔ صوفہ سٹ سے لے کر ہاوز وائرنگ سب کے سب آگ کی نذر ہوگئے ۔ شاک سرکٹ کے باعث پھیلی آگ نے مکان کے در و دیوار کو بھی جلا کر رکھدیا اور کئی گھنٹوں تک دیواریں تندور سے نکلی ہوئی روٹیوں کی طرح گرم ہوگئی تھیں ۔ لیکن اس گھر کے ایک محراب میں غلاف میں لپیٹ کر رکھے گئے قرآن مجید کے 6 تا 7 نسخے بالکل محفوظ تھے ۔ آگ نے قرآن مجید کے ان نسخوں سے بالکل قریب موجود برقی تاروںکو تک پگھلا کر رکھدیا تھا ۔ تاہم اللہ تعالی نے اپنی کتاب کے نسخوں کو بالکل محفوظ رکھا ۔ قارئین … جانکی نگر ٹولی چوکی کے ساکن عبدالقدیر اور ان کے بیوی بچے ایک تقریب میں شرکت کے لیے پرانا شہر گئے ہوئے تھے کل رات دیر گئے جب وہ لوٹے تو دیکھا کہ گھر میں آگ بھڑک رہی ہے ۔ شعلے بلند ہورہے ہیں ۔ دھویں کے کثیف بادل اٹھ رہے ہیں ۔ وہ اور ان کے شریف النفس مکاندار نے آگ بجھانے کی کوشش کی اور انہیں ان کوششوں میں کامیابی بھی ملی پھر بھی کچھ ہی دیر میں گھر کی اکثر اشیاء جل کر خاکستر ہوگئی تھیں ۔ اگرچہ اس واقعہ میں کپڑے کی دکان میں کام کرنے والے نوجوان عبدالقدیر کا ایک تا دیڑھ لاکھ روپئے کا نقصان ہوا اور اس نقصان پر انہیں ابتداء میں افسوس بھی ہوا لیکن محراب میں جب انہوں نے قرآن مجید کے نسخوں کو بالکل محفوظ پایا تو ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہا ۔ قلب مطمئن ہوگیا ذہن کو ایک عجیب قسم کا سکون حاصل ہوا ۔ تب ہی وہ سونچنے لگے کہ آگ سے سارا گھر جل سکتا ہے لیکن قرآن مجید کے نسخے اس لیے محفوظ ہیں کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مبین کی حفاظت کا خود ذمہ لیا ہے ۔ وہ یہ بھی سوچنے لگے کہ قرآن مجید تمام علوم کا منبع و مرکز ہے اس روشن کتاب کا ہر حرف حکمتوں سے معمور ہے ۔ اللہ تعالی نے اپنے نبی کریم ؐ پر نازل کردہ کلام پاک کو ساری انسانیت کے لیے سرچشمہ ہدایت بنایا ہے ۔ یہ ایسا مکمل ضابطہ حیات ہے جو بھی اسے تھام لیتا ہے اس پر عمل پیرا ہوتا ہے ۔ کامیابی و فلاح اس کا مقدر بن جاتی ہے ۔ جناب عبدالقدیر کے مطابق اللہ تعالی کے اس فضل و کرم کا مشاہدہ کرنے کے بعد انہوں نے بارگاہ رب العزت میں شکر ادا کیا کہ ایک بڑا حادثہ ہونے سے بچ گیا ۔ اگر ان کی بیوی اور دو بچے حادثہ کے وقت گھر میں موجود رہتے تو کچھ بھی ہوسکتا تھا ۔ راقم الحروف سے بات چیت کے دوران جناب عبدالقدیر بار بار اللہ تعالی کا شکر ادا کررہے تھے ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کے مکان میں قرآن مجید کی تلاوت پابندی سے کی جاتی ہے ۔ وہ خود قرآن مجید کا ہندی ترجمہ پڑھتے ہیں ۔ انہوں نے اس واقعہ کو اللہ کی مرضی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہر حال میں راضی بہ رضا ہیں ۔ اللہ پاک کا سب سے بڑا احسان ہے کہ ان کا خاندان کسی بڑے حادثہ سے بچ گیا ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ قرآن مجید کو غلافوں میں لپیٹ کر نہیں رکھدینا چاہئے ہر گھرمیں پابندی سے تلاوت کی جانی چاہئے جس کی برکت کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا ۔۔