سادھوی پراچی کے فرقہ پرست تبصرہ پر نیاتنازعہ

مخالف لووجہاد موقف اور ہندوخواتین سے چار بچے جنم دینے کی اپیل کا دفاع ، بی جے پی کا اظہار لاتعلقی
بدایوں (یو پی) ،2 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) وشواہندوپریشد قائد سادھوی پراچی نے اشتعال انگیز تبصرے کرتے ہوئے تازہ تنازعہ پیدا کردیا ۔ انہوں نے لووجہاد اور ہندوخواتین کے چار بچے پیدا کرنے کے اپنے بیانات کادفاع کرتے ہوئے کہا کہ لوگ ہماری بیٹیوں کو لوجہاد کے ذریعہ پھندے میں پھانس رہے ہیں۔یہ لوگ 35تا 40بچے پیدا کرتے ہیں اور وہ لووجہاد میں مصروف ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہندوستان کو دارالاسلام بنادیں۔ انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے یہ تبصرے کئے تھے تو پورا ہندوستان اسی طرح دہل گیا تھا جیسے کہ زلزلہ آیا ہو۔ ذرائع ابلاغ نے کہا تھا کہ چار بچوں کے میرے تبصرے پر شوروغل مچ گیا ہے ۔ پراچی نے کہا کہ انہوں نے صرف ہندوؤں کو چار بچے پیدا کرنے کیلئے کہا تھا ،40کیلئے نہیں ، کیونکہ یہ ملک کے لئے بہت اہم ہے ۔ وی ایچ پی کے زیراہتمام ہندوؤں کو تہنیت پیش کرنے کیلئے جن کے چار سے زیادہ بچے ہیں یہ تقریب منعقد کی گئی تھی، بھگوالباس میں ملبوس پراچی نے اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اپنے بیانات کا دفاع کیا ۔وہ بی جے پی کے ٹکٹ پر پورکازی حلقہ سے اسمبلی انتخابات میں 2012ء میں مقابلہ کرچکی ہیں ۔ وہ اُن افراد میں شامل ہیں جن پر 2013ء میں مظفر نگر میں اشتعال انگیز تقریروں کے ذریعہ فساد برپا کرنے کا الزام ہے تاہم انہیں بعدازاں ضمانت پر رہا کردیا گیا ۔ وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے پارٹی قائدین کو متنازعہ تبصروں کے خلاف انتباہ کے باوجود اُن کی تازہ ترین نفرت انگیز تقریرمنظر عام پر آئی ہے جس سے مودی حکومت کا ترقی اور معاشی اصلاحات کا ایجنڈہ متاثر ہوسکتا ہے ۔ بی جے پی نے فوری پراچی کے تبصروں سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی اُن کے اکثر نظریات سے اتفاق نہیں کرتی اور ایسے مسائل پر تبادلہ خیال سے دلچسپی نہیں رکھتی۔ صدر یو پی بی جے پی لکشمی کانت باجپائی نے کہا کہ ایسے تبصروں کی موجودہ حالات میں کوئی اہمیت نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ وی ایچ پی قائد بی جے پی کے پلیٹ فارم سے خطاب نہیں کررہی تھی ۔سادھوی نے چار سے زیادہ بچوں والے 20 ہندوؤں کو تہنیت پیش کی ۔ مودی حکومت میں وقفے وقفے سے بی جے پی قائدین مختلف موضوعات پر متنازعہ بیانات دے رہے ہیں۔