سادگی کے ساتھ نکاح تقاریب میں بتدریج اضافہ

حیدرآباد۔/5جنوری، ( سیاست نیوز) سادگی کے ساتھ نکاح تقاریب کے انعقاد کے چلن میں بتدریج اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ شہر میں ہونے والی نکاح تقاریب میں بھی سادگی اختیار کرنے کے مسئلہ پر گفتگو کی جارہی ہے۔ گزشتہ یوم مسجد بلال جہاں نما میں منعقدہ ایک نکاح تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبید الرحمن اطہر ندوی خطیب و امام مسجد ٹین پوش لال ٹیکری نے نکاح تقاریب کو آسان بنانے کے سلسلہ میں اقدامات کو ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ عوام کا جو مزاج بن رہا ہے وہ لڑکی کے والدین کیلئے تکلیف کا باعث ہوتا جارہا ہے چونکہ فی الحال لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں لین دین نہیں چاہیئے لیکن نکاح تقریب میں 400سے زائد افراد کیلئے پُرتکلف عشائیہ ترتیب دیا جائے اور شادی خانہ بہتر سے بہتر ہو۔ انہوں نے اس طرح کے مطالبات کو غیردرست قرار دیتے ہوئے کہا کہ دولت مند طبقہ کی جانب سے اس طرح کی تقاریب کا انعقاد دوسروں کیلئے نظیر بنتا جارہا ہے اسی لئے متمول طبقہ کو چاہیئے کہ وہ خود نکاح کی تقاریب سنت کے مطابق منعقد کرنے کیلئے آگے آئیں۔ مولانا عبید الرحمن اطہر ندوی نے بتایا کہ متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد معیاری شادی کے نام پر مقروض ہورہے ہیں بلکہ اپنے مکانات فروخت کرتے ہوئے لڑکی کے نکاح کو یقینی بنانے سے بھی گریز نہیں کررہے ہیں۔

مولانا نے مزاج میں تبدیلی لانے اور سنت کے عین مطابق نکاح تقاریب کے انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے تحریک کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ماضی قریب میں چائے اور بسکٹ سے تواضع پر نکاح تقاریب مکمل ہوجایا کرتی تھیں لیکن آج کی نکاح تقاریب میں مختلف انواع و اقسام کے کھانوں کے علاوہ دیگر فضول چیزوں پر لاکھوں روپئے خرچ کئے جارہے ہیں۔ ڈاکٹر اشرف سعید ولد جناب محمد سعید کا نکاح 4جنوری کو مسجد بلال جہاں نما میں جناب سید سعید الدین کی دختر کے ہمراہ انجام پایا۔ اس نکاح تقریب کی خاص بات یہ رہی کہ دولہا کی جانب سے شادی میں لی جانے والی تمام ضروریات زندگی کا سامان مہیا کروایا گیا تھا اور مسجد میں نکاح کے بعد لڑکی والوں کے اصرار پر نصیر گارڈن فنکشن ہال میں استقبالیہ ترتیب دیا گیا جہاں پر مہمانوں کی صرف حلیم سے تواضع کی گئی۔اس طرح سادگی سے شادیوں کے انعقاد کے ذریعہ سماج میں پھیلے جہیز اور لین دین کے ناسور کو ختم کرنے کے علاوہ ایک بہتر معاشرہ کی تشکیل میں ہر کوئی اپنا کردار ادا کرسکتا ہے بشرطیکہ اس میں سماجی ذمہ داریوں کا احساس پیدا ہو۔ اسی طرح اسے اپنے مذہبی حدود و دائرہ کار کے متعلق بھی معلومات ہونی چاہیئے تاکہ وہ کسی بھی طرح کے اسراف یا لغویات میں مبتلاء نہ ہوں۔