ساتھیوں کی گرفتاری پر ٹاملناڈو مچھیروں کا احتجاج

رامیشورم ۔ 7 ۔ جولائی (سیاست ڈاٹ کام) ٹاملناڈو کونسٹل ایریا فشر مینس اسوسی ایشن نے 21 جولائی سے سری لنکائی بحریہ کی جانب سے ہندوستانی مچھیروں پر حملوں اور گرفتاری کے خلاف بطور احتجاج ماہی گیری سرگرمیوں کا غیر معینہ بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ کل 20 مچھیروں کو ان کی چار کشتیوں کے ساتھ گرفتار کرنے اور سری لنکا لیجائے جانے کے واقعہ کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ۔ مچھیروں کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ پاک بے میں ان کے ماہی گیری کے روایتی حقوق کو بحال کرنے کے لئے مرکزی ح کومت پیشرفت کرے ۔ پاک بے میں کچا تھیرو ، جیوراجا بھی شامل ہیں ۔ فشر مینس اسوسی ایشن کے صدر نے یہ بات کہی ۔ انہوں نے کہا اکہ مرکز نے حال ہی میں مدراس ہائی کورٹ میں ایک درخواست کا ادخال کیا تھا جس میں یہ تحریر کیا گیا تھا کہ ٹاملناڈو کے مچھیروں کو ٹاملناڈو کے ماہی گیری علاقوں کی حدود معلوم کئے بغیر کچا تھیوو میں ماہی گیری کے حقوق نہیں ہیں۔ ان علاقوں کو روایتی ، تاریخی اور جغرافیائی حصوں میں تقسیم عمل میں آئی ہے۔ اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ بطور احتجاج 21 جولائی کو تمام مچھیرے اپنا فشنگ لائسنس ڈسٹرکٹ عہدیداروں کے حوالے کردیں گے ۔ علاوہ ازیں 26 جولائی کو مچھیروں نے سری لنکا کے سفر کا منصوبہ بھی بنایا ہے جو اپنے ساتھ سفید رنگ کا پرچم بھی لے جائیں گے اور اپنی روزی روٹی کیلئے سری لنکا میں پناہ حاصل کرنے کوشش کریں گے ۔