سابق وزیر اعظم اٹلی برلوسکونی کا حلیف لبنان میں گرفتار

روم۔13اپریل(سیاست ڈاٹ کام ) سابق وزیر اعظم اٹلی سلویو برولسکونی کے گہرے دوست سابق رکن سینٹ مارشیلو ڈیل اوری کو لبنان میں گرفتار کرلیا گیا جہاں وہ مافیا کے ساتھ روابط کے الزامات کے سلسلہ میں متوقع مقدمہ سے بچنے کیلئے فرار ہوکر پہنچے تھے ۔ وزارت داخلہ اٹلی کی خبر کے بموجب انسداد مافیا وکیل استغاثہ کے دفتر سے ایک دن قبل اطلاع دی گئی تھی کہ مارشیلو ڈیل اوری کا ایک گرفتاری وارنٹ منگل کے دن جاری کیا گیا ہے لیکن یہ وارنٹ انہیں حوالے نہیں کیا جاسکا ۔ مارشیلو نے ایک بیان میں انکشاف کیا تھا کہ اُن کا گرفتاری سے بچنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور وہ خرابی صحت کی بناء پر طبی معائنے کروارہے ہیں ۔ان کے غائب ہوجانے سے سیاسی دنیا میں برہمی پھیل گئی تھی ۔ انتہا پسند بائیں بازو اور سابق وکیل استغاثہ اگنیزیو اینگرویا نے کہا تھا کہ مارشیلو کو بیرون ملک فرار کا موقع دینا ایک مہذب ملک کیلئے شرمناک اور غیراخلاق حرکت ہے ۔مارشیلو اب بیروت کے پولیس اسٹیشن میں زیرحراست ہیں ۔

وزیر داخلہ اٹلی انجیلنو الفینو نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ لبنان کے سینئر عہدیدار نے بیروت کے ایک ہوٹل سے ان کی گرفتار کی توثیق کی ہے اور یقینی طور پر انہیں روم کی تحویل میں دے دیا جائے گا ۔ ان کے خلاف قانونی مقدمہ گذشتہ 20برسوں سے جاری ہے اور سپریم کو قطعی فیصلہ 15اپریل کو مقرر ہے ۔ جب کہ قبل ازیں ماریشلو کئی اپیلیں کرچکے ہیں ۔ وکلاء استغاثہ کے بموجب جاریہ ہفتہ ان کی گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا گیا تھا کیونکہ وہ کئی مقدمہ کے باوجود وہ ہنوز آزاد تھے اور ان کے فرار ہونے کا خطرہ مول لیا گیاتھا ۔ 72سالہ مارشیلو سابق وزیراعظم برلسکونی کے ذرائع ابلا غ نظام کے سربراہ تھے اورانہوں نے 1990ء کی دہائی کے اوائل میں اٹلی کی سیاحتی ترعیب دینے والے فاؤنڈیشن کو پورزا اٹالیاکے ذریعہ اپنے کریئر کا آغاز کیاتھا ۔ انہیں مافیا سے روابط کے جرم میں سات سال کی سزائے قید ممکن ہے ۔