سابق وزیر احمد اللہ کا انتخابی مقابلہ سے گریز

کڑپہ سے فرزند محمد اشرف کو قسمت آزمائی کا موقع

حیدرآباد 14 اپریل (سیاست نیوز) سابق وزیر اقلیتی بہبود محمد احمد اللہ مجوزہ اسمبلی انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے ۔ انکی جگہ فرزند محمد اشرف کانگریس ٹکٹ پر قسمت آزمائی کریں گے۔ آندھراپردیش کی تقسیم کے بعد سیما آندھرا میں پیدا صورتحال اور کانگریس کے کمزور موقف کو دیکھ کر احمد اللہ نے انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا۔ پارٹی کیڈر کی جانب سے اگرچہ ان پر وائی ایس آر کانگریس یا تلگو دیشم میں شمولیت کیلئے دباؤ بنایا جارہا تھا، تاہم انہوں نے کانگریس میں برقراری کا فیصلہ کیا ۔ لیکن وہ کڑپہ حلقہ سے امیدوار نہیں ہوں گے ۔ محمد احمد اللہ کا خاندان ابتدا سے کانگریس کا کٹر حامی رہا ہے اور ان کے والد جناب رحمت اللہ مرحوم پردیش کانگریس کے صدر رہ چکے ہیں۔ کڑپہ میں ڈاکٹر راج شیکھر ریڈی کو سیاسی میدان میں رحمت اللہ نے کافی حوصلہ افزائی کی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آنجہانی راج شیکھر ریڈی جناب رحمت اللہ کے خاندان کا کافی احترام کرتے تھے۔ سیما آندھرا میں پارٹی کی ابتر صورتحال پر کڑپہ کے کانگریس قائدین نے وائی ایس آر کانگریس یا تلگو دیشم میں شمولیت اختیار کرلی۔

سابق وزیر ڈاکٹر ڈی ایل رویندر ریڈی اور احمد اللہ نے کسی پارٹی میں شمولیت اختیار نہیں کی۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ اپنے حامیوں کے اصرار پر کسی اور پارٹی میں شمولیت کا ارادہ کر رہے تھے کہ وائی ایس آر کانگریس نے کڑپہ حلقہ سے امجد باشاہ کی امیدواری کا اعلان کردیا ۔ امجد باشاہ گزشتہ ایک عرصہ سے وائی ایس آر کانگریس میں سرگرم ہیں۔ کانگریس میں برقراری اور انتخابات میں حصہ نہ لینے کے فیصلہ کے بعد کانگریس نے کڑپہ اسمبلی حلقہ سے احمد اللہ کے دوسرے فرزند محمد اشرف کو ٹکٹ دیا ہے۔ جناب احمد اللہ نے کہا کہ وہ کڑپہ میں کانگریس کے حق میں انتخابی مہم چلائیں گے اور محمد اشرف کی کامیابی کو یقینی بنائیں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ کڑپہ ضلع اور خاص طور پر کڑپہ اسمبلی حلقہ میں وائی ایس آر کانگریس پارٹی مضبوط موقف رکھتی ہے۔ اس لئے احمد اللہ نے انتخابات سے دوری اختیار کرنے کو بہتر سمجھا۔ بتایا جاتا ہے کہ کانگریس ہائی کمان نے انہیں کونسل کی رکنیت کا تیقن دیا ہے۔ احمد اللہ مسلسل دو مرتبہ اس حلقہ کی نمائندگی کرچکے ہیں۔