نئی دہلی۔/3فبروری، ( سیاست ڈاٹ کام ) مرکزی وزیر پرکاش جاویڈکر نے آج بتایا کہ پیشرو یو پی اے حکومت کی وزیر ماحولیات جینتی نٹراجن کے دور میں مخصوص فائیلوں کی منظوری میں بیجا مداخلت کے معاملوں کی تحقیقات کی جائے گی۔ جبکہ یہ شکایت عام تھی کہ یو پی اے دور حکومت میں وزیر اعظم کو بھی کوئی اختیارات حاصل نہیں تھے۔ مرکزی وزیر نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ صدر کانگریس سونیا گاندھی نے مرکز میں پارٹی کے دور اقتدار میں بعض اہم فیصلوں میں بیجا مداخلت کی تھی اگرچیکہ جینتی نٹراجن نے بعض مخصوص فائیلوں کی منظوری کیلئے دباؤ کا برسبیل تذکرہ کیا ہے لیکن حقائق کو واضح نہیں کیا ہے تاہم ایک بات واضح ہے کہ اس وقت کے وزیر اعظم محض کٹھ پتلی تھے، ان کے پاس کوئی اختیارات نہیں تھے۔ مسٹر پرکاش جاویڈکر نے کہا کہ کانگریس دور حکومت میں اقتدار کا مرکز 10جن پتھ ( سونیا گاندھی کی قیامگاہ ) تھا، اور سابق وزیر جینتی نٹراجن نے جن معاملوں کی طرف اشارہ کیا اور یہ شکایت کی تھی کہ ماورائے دستور عناصر نے مخصوص فائیلوں کی منظوری کیلئے دباؤ ڈالا تھا ہم ان شکایتوں کی تحقیقات کریں گے اور قصوروار پائے جانے پر یقیناً کارروائی کی جائے گی۔
واضح رہے کہ سابق وزیر ماحولیات جینتی نٹراجن نے صدر کانگریس سونیا گاندھی کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے یہ الزام عائد کیا کہ ماحولیاتی منظوریوں پر ان کے فرزند اور نائب صدر کانگریس کانگریس راہول گاندھی نے مداخلت کی تھی جس کے نتیجہ میں بعض بڑے پراجکٹس کو مسترد کردینا پڑا۔ قبل ازیں پرکاش جاویڈکر نے اسے ایک سنگین مسئلہ قرار دیا اور کہا کہ ان فائیلوں پر نظر ثانی کریں گے جس کے بارے میں الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ شریمتی جینتی نٹراجن نے راہول اور سونیا گاندھی کو تنقید کا نشانہ بنانے کے بعد گزشتہ ہفتہ کانگریس سے استعفی دے دیا تھا۔انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ بحیثیت مرکزی وزیر ماحولیات وہ نائب صدر کانگریس راہول گاندھی کی ہدایات پر عمل کرتی تھیں جوکہ کارپوریٹ اداروں کے حق میں سفارش کرتے تھے۔ بعد ازاں کانگریس قیادت نے ان کے ساتھ توہین آمیز رویہ اختیار کرتے ہوئے پارٹی میں نظرانداز کردیا گیا۔