بغداد ۔ 17 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) عراق کے سابق صدر صدام حسین کا مقبرہ تباہ ہوگیا جبکہ ان کی میت بھی قبر سے غائب ہے۔ فرانسیسی نیوز ایجنسی کے مطابق عراق کے شہر تکریت کے علاقے الوجا میں صدام حسین کا مقبرہ تباہ ہے اور قبر میں صدام کی نعش بھی موجود نہیں۔ رپورٹ کے مطابق سابق عراقی صدر کے قبیلے ابونصر کے سربراہ شیخ مناف علی الندا کا کہنا ہیکہ صدام حسین کے مقبرے کی چھت پر موجود داعش کے اسنائپر کو نشانہ بنانے کیلئے عراقی طیارے نے بمباری کی جس کے نتیجہ میں مقبرہ تباہ ہوگیا۔ شیخ مناف کے مطابق وہ حملے کے وقت جائے وقوع پر موجود نہیں تھے تاہم مقبرہ تباہ ہے اور صدام حسین کی قبر میں ان کی باقیات بھی موجود نہیں ہے۔ یاد رہیکہ 28 اپریل کو صدام حسین کی سالگرہ کے موقع پر ان کے قبیلے کے افراد اور حامی مقبرے پر حاضری دیتے ہیں اور اسکول کے بچوں کو بھی سابق صدر کی سالگرہ کے موقع پر ان کے مزار پر آنا تھا۔ دوسری جانب علاقہ کے سیکوریٹی چیف جعفرالغراوی کا کہنا ہیکہ صدام حسین کی میت وہیں موجود ہے جبکہ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ صدام حسین کی جلاوطن کی گئی صاحبزادی ہالانجی طیارے میں تکریت پہنچیں اور اپنے والد کی قبر کشائی کے بعد میت اردن لے گئیں۔ مقامی افراد کا کہنا ہیکہ ہالا کھی عراق لوٹ کر نہیں آئیں۔ تاہم صدام حسین کی قبر کھدی ہوئی ہے اور نعش بھی غائب ہے۔ نہیں جانتے کہ نعش کو کہاں منتقل کیا گیا ہے اور اس کے پس پردہ کون لوگ ہیں۔ مقامی افراد کا کہنا ہیکہ صدام حسین کے والد کا مقبرہ بھی گاؤں کے داخلی راستے پر واقع تھا جسے دھماکہ سے اڑادیا گیا تھا۔ واضح رہیکہ صادم حسین نے ساڑھے 23 سال تک عراق پر حکومت کی۔ امریکہ کی جانب سے عراق پر کیمیائی ہتھیار بنانے کے الزامات کے بعد چڑھائی کی گئی اور صدام حسین کی حکومت کو مقامی افراد کی مدد سے گرایا گیا۔