سابق صدر ایران رفسنجانی کے فرزند کو 14 سال سزائے قید

لندن ۔ 16 مارچ۔(سیاست ڈاٹ کام) ایران کے سابق صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی کے فرزند کو ایران کی ایک عدالت نے سکیورٹی سے مربوط اور مالیاتی جرائم میں بھی ملوث ہونے پر سزائے قید سنائی ہے ۔ بی بی سی کی رپوٹ کے مطابق مہدی ہاشمی رفسنجانی پر الزام ہے کہ انھوں نے 2009 ء میں متنازعہ انتخابات کے بعد نقص امن پیدا کرنے کی کوشش کی تھی اور 2012 ء میں برطانیہ سے جلا وطنی کے بعد واپس آنے پر گرفتار کیا گیا تھا ۔ غیرسرکاری ذرائع نے بتایا ہے کہ تہران کی ایک عدالت نے مہدی ہاشمی کو 15 سال کی سزائے قید سنائی ہے البتہ اس کی توثیق نہیں ہوئی ہے ۔ دوسری طرف عدلیہ کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ سزائے قید کے فیصلہ کے خلاف اپیل دائر کرنے کے لئے ہاشمی کے پاس 20 روز ہیں۔ سزائے قید کے علاوہ ایک خطیر رقمی جرمانہ اور کسی بھی عوام عہدہ پر فائز ہونے پر امتناع عائد کیا گیاہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ دلچسپ ہوگا کہ مہدی ہاشمی کا مقدمہ ایران کی انقلابی عدالت میں چلا جہاں صرف سکیورٹی سے متعلق جرائم کی سماعت کی جاتی ہے۔ مقدمہ کی سماعت گزشتہ سال اگست میں بند کمرہ میں چلائی گئی لہذا اُن پر عائد کئے گئے الزامات کا قطعی موقف معلوم نہیں ہوسکا ۔ سابق صدر رفسنجانی کے ارکان خاندان 2009 ء انتخابات کے دوران جانچ پڑتال کی زد میں اُس وقت آگئے تھے جب انھوں نے مصلح میر حسین موسوی کی تائید کا اعلان کیا تھا تاہم موسوی اُس وقت کے صدر ایران محمود احمدی نژاد کو چیلنج کرنے میں ناکام ثابت ہوئے تھے ۔ نقادوں کا یہ کہنا ہے کہ مہدی ہاشمی کی سزائے قید دراصل سخت گیروں کی جانب سے اُن کے والد ( اکبر ہاشمی رفسنجانی ) کی آئندہ سال فروری میں منعقدشدنی انتخابات سے قبل اُن کی شبیہ بگاڑنا خاص مقصد ہے ۔ رفسنجانی 1989 تا 1997 ء صدر ایران کے عہدہ پر فائز رہے ۔