گاندھی نگر ۔ 7 ۔ جنوری (سیاست ڈاٹ کام) سائنس اور ٹکنالوجی کی بہتر سہولیات کے ساتھ درخشاں مستقبل کا تیقن دیتے ہوئے مرکزی وزیر مسٹر ہرش وردھن نے تحقیقات اور ایجادات کے شعبہ میں سرگرم عمل نوجوانوں سے پرزور اپیل کی کہ ہندوستان واپس آکر اس کی ترقی و تعمیر میں اعانت کریں۔ مرکزی وزیر سائنس و ٹکنالوجی سے آج یہاں 13 ویں پرواس بھارتیہ دیواس سے مخاطب کرتے ہوئے شرکاء سے کہا کہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہمارے نوجوان بالخصوص دانشور حضرات ہندوستان واپس آنے کے بارے میں غور کریں اور میں یہ تیقن دیتا ہوں کہ مادر وطن میں بہتر سائنٹفک اور ٹکنالوجیکل سہولیات کی فراہمی کے ساتھ درخشاں مستقبل کی ضمانت دی جائے گی ۔ مسٹر ہرش وردھن جو کہ ایک ماہر ڈاکٹر بھی ہیں نے بتایا کہ آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈیولپمنٹ (OECD) سے وابستہ ممالک اختراعی محاذ پر گامزن ہونے کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں جبکہ امریکہ نے تحقیقات اور ایجادات کے معاملہ میں مہارت حاصل کرلی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 30 سال ے دوران پہلی نسل کے صنعتکاروں کی قائم کردہ 17 ہندوستانی کمپنیوں کو داؤس میں گزشتہ سال منعقدہ عالمی معاشی فورم میں مدعو کیا گیا تھا۔ مسٹر ہرش وردھن نے بروکنگ انسٹی ٹیوشن کے مرتبہ ایک دستاویز کا حوالہ دیا جس میں بتایا گیا کہ دنیا بھر سے سائنس ، ٹکنالوجی، انجنیئرنگ اور ریاضی پر جن 10سائنسدانوں کے مقالے پیش کئے گئے ہیں، ان میں 8 مقالے ہندوستانی شہروں بنگلور، حیدرآباد ، وجئے واڑہ ، پونے اور چینائی سے آئے ہیں جو کہ خوش آئند امر ہے اور دنیا بھر میں ہندوستان کو منفرد مقام عطا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں جہاں تک مواقع کا سوال ہے۔ اب یہاں ماضی کے بہ نسبت ترقی کے زبردست مواقع دستیاب ہیں اور ہندوستان اب آرٹ ، کلچر، میڈیسن، اکنامی اور کامرس میں سب سے آگے ہے۔