زندگی کے ہر شعبہ میں ترقی کیلئے تعلیم سے آراستہ ہونا ضروری

حیدرآباد ۔ 20 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو کر کوئی بھی فرد ترقی کی منزلیں طئے کرتا ہے اور جو طالب علم اچھے نشانات سے کامیابی حاصل کرتے ہیں ان کے پیچھے ان کے اساتذہ ، ماں باپ کی محنت کا بھی بڑا دخل ہوتا ہے ۔ اسکالر شپ کے حصول سے طالب علم میں مستقبل میں دوسروں کی مدد کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انڈو برٹش مسلم ایجوکیشن فاونڈیشن کے زیر اہتمام دفتر سیاست محبوب حسین جگر ہال میں منعقدہ جلسہ تقسیم اسکالر شپ میں جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر سیاست اور ڈاکٹر فصیح الدین علی خاں بانی صدر فاونڈیشن نے کیا ۔ جناب زاہد علی خاں نے کہا کہ حیدرآباد ایک علمی مرکز ہے ۔ کیرالا گرچہ کہ خواندگی کی شرح میں پہلا مقام رکھتا ہے لیکن حیدرآباد شہر کو عالمی سطح پر علمی شہر کا درجہ حاصل ہے ‘ڈاکٹر فصیح الدین علی خاں لندن میں مقیم ہیں حیدرآباد سے آپ کا تعلق ہے اور اپنے وطن کے جذبہ کے تحت وہ طلبہ کی حوصلہ افزائی کیلئے ہر سال اسکالر شپ عطا کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آج یہ دیکھا جارہا ہے کہ لڑکیاں تعلیمی میدان میں آگے ہیں اور آج کی 17 کی فہرست میں 16 لڑکیاں اور صرف ایک لڑکا ہے ۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ بچوں کی تعلیم پر خاص توجہ دیں ۔ انہوں نے انجینئرنگ / میڈیسن کے علاوہ سائنس کے میدان میں مقام حاصل کرنے اور سائنسداں بننے کا مشورہ دیا اور کہا کہ حیدرآباد نے ایک مسلم سائنسداں کو دیا جن کا نام ظہیر تھا ۔ انکے نام سے تارناکہ میں آئی آئی سی ٹی اسکول قائم ہے ۔ آئی اے ایس / آئی پی ایس بننے صرف گریجویٹ ہونا ضروری ہے لیکن کوئی انجینئر یا ڈاکٹر اپنی تعلیم کے بعد سیول سرویس امتحان لکھ سکتا ہے انہوں نے ڈاکٹر شاہ فیصل ( کشمیر ) کی مثال دی جو پیشہ سے ڈاکٹر ہیں ۔ یم بی بی ایس کے بعد انہوں نے آئی اے ایس کو ٹارگٹ بنایا اور ملک بھر میں پہلا مقام پایا ۔ انڈو برٹش مسلم ایجوکیشن فاونڈیشن کے صدر ڈاکٹر فصیح الدین کے جذبہ کی ستائش کرتے ہوئے ان کے سلسلہ کو جاری رکھنے کی دعا کی اور کہا کہ ان کی جستجو جو 12 برسوں سے جاری ہے آئندہ جاری رہے ۔ ڈاکٹر فصیح الدین علی خاں فاونڈر صدر انڈو برٹش مسلم ایجوکیشنل فاونڈیشن نے کہا کہ انہوں نے اس کا قیام 1999 میں کیا سال 2002 ء سے حیدرآباد میں اسکالر شپ تقسیم کررہے ہیں ۔ ( باقی سلسلہ صفحہ 12 پر )