اقلیتی قائدین قصیدہ خوانی میں مصروف ،علامہ اعجاز فرخ کا ریمارک
حیدرآباد /10 اپریل ( سیاست نیوز ) تلگودیشم پارٹی اور بی جے پی گٹھ جوڑ پر تبصرہ کرتے ہوئے علامہ اعجاز فرخ نے کہا کہ انہیں اس پر کوئی حیرت نہیں ہے ۔ البتہ انہیں بی جے پی کے منافرت انگیز اور فرقہ پرست منشور پر کاربند رہنے کے عزم کے بعد بھی تلگودیشم اقلیتی قائدین کی اس پارٹی سے اٹوٹ وابستگی پر سخت افسوس ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تلگودیشم سے اپنی وفاداری کا دم بھرنے والے اقلیتی قائدین نے ہمیشہ خود کو مسلمانوں کے ہمدرد کی صورت میں پیش کیا اور صرف اپنے مفادات حاصلہ اور سیاسی روزگار کی خاطر نہ صرف تلگودیشم سے چمٹے ہوئے ہیں بلکہ صدر تلگودیشم کی قصیدہ خوانی میں مصروف ہیں ۔ علامہ نے کہا کہ نریندر مودی کا کردار آشکار ہے ۔ اس کے باوجود مسلمان سیاسی قائدین کے اس جھکاؤ کے پیش نظر یہ بات درست دکھائی دیتی ہے کہ لوگ زندگی تو فرعون کی گذارتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ عاقبت بخیر ہو ۔ علامہ نے کہا کہ اگرچیکہ جناب زاہد علی خان مدیر سیاست اُن کے گہرے دوست ہیں لیکن اس سے قطع نظر وہ اُن کی مستقبل بینی اور فراست کی ستائش کرتے ہیں کہ مہینوں قبل انہوں نے ’’مِرا ماتھا جب ہی ٹھنکا فریب رنگ محفل سے ‘‘ کو بھانپ کر اپنے استعفی کا ا شارہ دے دیا تھا ۔ انہوں نے زاہد علی خان کی عملی سیاست سے سبکدوشی اور تلگودیشم سے استعفی کو لائق تقلید قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب ہر سیاسی جماعت نے اپنے طرز سے یہ ثابت کردیا ہے کہ ہر سیاسی جماعت مسلمانوں کا استحصال تو کرنا چاہتی ہے لیکن کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔ علامہ اعجاز فرخ نے توقع ظاہر کی کہ جناب زاہد علی خان اس صورتحال پر غور کریں گے اور کوئی مثبت حل تلاش کریں گے ۔