زمیں ہے فرش ، آسمان ہے چھت ہمارا

حیدرآباد ۔ 22 ۔ دسمبر : ( نمائندہ خصوصی ) : ایک ایسے وقت جب آندھرا پردیش میں تلنگانہ کا اب تک کا سب سے کم درجہ حرارت ریکارڈ کیا جارہا ہے اور سردی کی شدت کے باعث لوگ سرشام ہی اپنے اپنے گھروں میں لحاف کے اندر جا بیٹھنے کو ترجیح دے رہے ہیں ، ایسے میں ریلوے اسٹیشن ، بس اسٹیشن اور دیگر عوامی مقامات پر شیلٹر کی عدم موجودگی کی وجہ سے مسافرین اور غریب عوام کا کیا حال ہوتا ہوگا اس کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ گذشتہ شب اس نمائندہ نے نامپلی ریلوے اسٹیشن پارکنگ کے مقام پر دیکھا کہ مسافرین کی بڑی تعداد کھلے آسمان کے نیچے سردی سے ٹھٹھرتے ہوئے سونے کی ناکام کوشش کررہے تھی ان مسافرین سے بات چیت کرنے پر پتہ چلا ان کی ٹرینیں چھوٹ گئی ہیں ۔ اور دوسری ٹرینیں صبح کے اوقات میں مل پائیں گی ۔ انہوں نے بتایا کہ سیکوریٹی کی وجہ سے انہیں ویٹنگ ہال میں بھی جانے کی اجازت نہیں ، جب کہ کسی ہوٹل یا لاڈجنگ کا کرایہ وہ برداشت کرنے کے قابل نہیں ہیں ۔ اس لیے وہ مجبورا اسٹیشن کے احاطے کی پارکنگ میں کھلے آسماں کے نیچے ہی شب بسری پر مجبور ہیں ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ دنیا کے خوبصورت اور بہترین ایرپورٹس میں سے ایک راجیو گاندھی انٹرنیشنل ایرپورٹ کا حال بھی اس معاملے میں کچھ اچھا نہیں وہاں بھی دیگر ممالک کو جانے والے مسافرین اور ان کو وداع کرنے کے لیے آنے والے رشتہ دار بھی آپ کو ایرپورٹ کے باہر ہی سوئے نظر آئیں گے ۔ روزنامہ سیاست کو شکایات کی وصولی پر نمائندہ نے رات کے اوقات میں نامپلی ریلوے اسٹیشن ، سرکاری زچگی خانہ پیٹلہ برج ، بچوں کے مشہور دواخانہ نیلوفر ہاسپٹل کا جائزہ لیا جہاں ہر جگہ تقریبا ایک جیسے ہی مناظر دیکھنے کو ملے۔ جہاں سردی کے باوجود مسافرین کی اچھی خاصی تعداد کھلے آسمان کے نیچے شب بسری کرتی نظر آئی۔ حیدرآباد کے اہم ترین عوامی مقامات پر اس طرح کے حالات حکومت کی ناقص کارکردگی کے علاوہ کسی اور چیز کو ظاہر نہیں کرتے ۔ قارئین نمائندہ نے باہر سوتے ہوئے جن لوگوں کو دیکھا ہے اگرچہ وہ مختلف مذاہب رنگ و نسل سے تعلق رکھتے ہیں لیکن ان میں جو بات مشترک تھی وہ یہ کہ ان کی غربت ! خیر یہ تو نامپلی ریلوے اسٹیشن کا منظر تھا ۔ لیکن جب زچگی خانہ پیٹلہ برج میں ایسے دردناک مناظر دیکھے کہ حکام کے ساتھ بعض خواتین کی غربت پر بھی ہمیں غصہ آیا کہ آخر غربت انسان کی اس قدر سخت دشمن کیوں ہیں ؟ یہاں بے شمار مرد و خواتین پارکنگ کے لیے مختص میدان میں سو رہے تھے ۔ بہر حال ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت ایسے عوامی مقامات پر شب بسری کے لیے شیلٹر قائم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے تاکہ حیدرآباد کو عالمی معیار کا شہر بنانے کا بھرم قائم رہ سکے ۔۔