اسلام آباد۔ 15 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے سابق صدر اور اپوزیشن جماعت پی پی پی کے معاون صدرنشین آصف علی زرداری نے دوبئی میں اپنے فرزند بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کی تاکہ دونوں باپ بیٹے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں اور اختلافات کو دور کیا جاسکے۔ کل ہوئی اس ملاقات کے بعد پاکستانی میڈیا نے ملاقات کی۔ تصویریں بھی جاری ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ بلاول بھٹو پی پی پی کے صدرنشین اس وقت بتائے گئے جب ان کی والدہ بے نظیر بھٹو کی وصیت میں یہ بات درج کی گئی تھی کہ بلاول کو پارٹی کا صدرنشین بنایا جائے تاہم ایسا نہیں ہوا اور زرداری نے بلاول کو پارٹی کا مکمل کنٹرول حوالے کرنے سے انکار کردیا تھا جس کے بعد بلاول گزشتہ ماہ لندن چلے گئے تھے۔ دوسری طرف گزشتہ ماہ سے اہم مواقع پر زرداری کے ساتھ ان کی بیٹی بختاور بھٹو بھی دیکھی جارہی تھی جس سے یہ قیاس آرائیاں بھی گشت کرنے لگیں کہ جنوب ایشیا کی خاندانی سیاست میں اب شاید بلاول بھٹو کی جگہ پر ان کی بہن بختاور کو متعارف کیا جائے گا۔ پی پی پی کے ایک سینئر لیڈر کے مطابق زرداری اپنے فرزند کے ساتھ تعلقات کو بحال کرنا چاہتے ہیں اور اس سے یہ باور کروانا چاہتے ہیں کہ سیاست میں دوبارہ داخلہ سے قبل وہ کم سے کم دو سال اپنی تعلیم پر توجہ دے حالانکہ قبل ازیں
انہوں نے کہا تھا کہ سیاسی سرگرمیوں کا حصہ بننے کے لئے بلاول کو سیاسی تربیت کی ضرورت ہے۔حالانکہ پی پی پی نے باپ ۔ بیٹے کے درمیان پائی جانے والی سرد مہری یا ناخوشگوار تعلقات کو کبھی منظر عام پر آنے نہیں دیا۔ بعض گوشوں سے یہ خبریں بھی مل رہی ہیں کہ بلاول بھٹو پارٹی پر اپنا مکمل کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ وہ پارٹی میں محض ربر اسٹامپ کی طرح کام کرنے میں یقین نہیں رکھتے جبکہ کچھ دیگر پارٹی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ بلاول اور ان کی پھوپھی فریال تالپور کے درمیان بھی تعلقات خوشگوار نہیں ہیں اور دونوں کے درمیان نظریاتی اختلافات پایا جاتا ہے جبکہ سندھ میں پی پی پی حکومت کے پس پشت فریال تالپور کا ہی ہاتھ ہے جو انتہائی خوبی سے پارٹی اُمور بھی چلا رہی ہے۔ بھٹو خاندان کا یہ المیہ رہا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی پر لٹکائے جانے کے بعد ان کے دونوں بیٹے بھی پراسرار حالات میں ہلاک ہوئے تھے جبکہ بیٹی بے نظیر بھٹو جو دو بار پاکستان کی وزیراعظم بنیں، انہیں بھی 2007ء میں ایک انتخابی ریالی کے دوران قتل کردیا گیا تھا۔