حیدرآباد ۔ 4 ۔ مارچ (سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے رکن قانون ساز کونسل کے پربھاکر نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر آندھراپردیش چندرا بابو نائیڈو اپنی ریاست کے کسانوں کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے پربھاکر نے کہا کہ آندھراپردیش کے کسانوں کے ساتھ ناانصافی کرنے والے چیف منسٹر کو تلنگانہ میں کسانوں سے ہمدردی کا کوئی حق حاصل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئے دارالحکومت کے قیام کیلئے اراضیات کے حصول کیلئے زرعی اراضیات کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ وجئے واڑہ اور اس کے اطراف کے علاقوں میں کسانوں سے جبراً اراضیات حاصل کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبہ کو برقی سربراہی کے معاملہ میں آندھراپردیش تلنگانہ سے پیچھے ہیں۔ پربھاکر نے کہا کہ کریم نگر اور تلنگانہ کے دیگر علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے چندرا بابو نائیڈو کسانوں کی حالت پر مگرمچھ کے آنسو بہا رہے ہیں۔ تلنگانہ کے عوام ابھی بھی اس بات کو بھولے نہیں کہ چندرا بابو نائیڈو نے زراعت کو ترک کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ چندر شیکھر راؤ کی قیادت میں تلنگانہ حکومت کسانوں کے مفادات کا تحفظ کر رہی ہے۔ برقی کی سربراہی کے علاوہ کسانوں کو کئی رعایتوں کا اعلان کیا گیا۔ انہوں نے کسانوں سے اپیل کی کہ وہ چندرا بابو نائیڈو کے دھوکہ میں نہ آئیں۔ تلنگانہ حکومت برقی اور پانی کے مسئلہ کی یکسوئی کیلئے سنجیدگی سے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی تقسیم کے بعد برقی کے شعبہ میں تلنگانہ کو جو حصہ داری دی گئی تھی، آندھراپردیش حکومت اس کی خلاف ورزی کر رہی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ریاستوں کے چیف منسٹرس کا گورنر کی موجودگی میں اجلاس منعقد ہوا جس میں چندرا بابو نائیڈو نے تلنگانہ کو برقی اور پانی سربراہ کرنے سے اتفاق کیا تھا۔ تاہم بعد میں اس تیقن سے انحراف کرلیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ناگرجنا ساگر سے آندھراپردیش حکومت اپنے مقرر کوٹہ سے زیادہ پانی حاصل کر رہی ہے جبکہ تلنگانہ کے علاقہ اس سہولت سے محروم ہیں۔