ری پبلکنس اور ڈیموکریٹس باہمی طور پر اصلاحات کا فیصلہ کریں : میلانیا ٹرمپ

واشنگٹن،18جون (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ میں داخل ہونے والے غیر قانونی تارکین وطن کے بچوں کے ان کے والدین سے جدا کئے جانے کے امریکی فیصلے کی چہار جانب تنقید ہورہی ہے ۔عام طور سے لوگ اسے غیر انسانی قرار دے رہے ہیں۔اب امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے میکسیکو سے امریکہ میں داخل ہونے والے غیر قانونی تارکین وطن کے بچوں کو والدین سے علیحدہ کرنے کی پالیسی کے خلاف اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ انھیں بچوں کو ان کے والدین سے جدا کرنے سے نفرت ہے ۔ میلانیا ٹرمپ کی ترجمان کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں ایسا ملک ہونا چاہیے جو تمام قوانین کی پاسداری کرے لیکن اس کے ساتھ ہی ہمیں ایسا ملک بھی ہونا چاہیے جہاں دل کی حکومت ہو۔’ان کا بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب صدر ٹرمپ کی ’عدم رواداری ‘ کی پالیسی تنازعہ کا شکار ہوتی جا رہی ہے ۔اور حالیہ چھ ہفتوں کے دوران تقریباً دو ہزار خاندانوں کو ان کے بچوں سے علیحدہ کر دیا گیا ہے ۔جو بالغ سرحد عبور کرتے ہیں انھیں حراست میں لے کر ان کے خلاف غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے کے جرم میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے حالانکہ ان میں بہت سے پناہ حاصل کرنے کی غرض سے غیر قانونی طور پر امریکہ میں داخل ہو رہے ہیں۔اس کے نتیجے میں سینکڑوں بچے حراستی مراکز میں اپنے والدین سے علیحدہ کر کے رکھے جا رہے ہیں۔ اس نئی پالیسی کو انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ ایسا آج تک کبھی نہیں کیا گیا ہے ۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ نے کہا کہ انھیں”بچوں کو اپنے والدین سے جدا کیے جانے سے نفرت ہے ” اور وہ ”امید کرتی ہیں کہ دونوں (ریپبلیکن اور ڈیموکریٹس) حتمی طور پر مل جل کر کامیاب امیگریشن اصلاحات کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوں۔”جبکہ صدر ٹرمپ نے اس پالیسی کے لیے اس قانون کو مورد الزام ٹھہرایا ہے جو ان کے مطابق ”ڈیموکریٹس نے دی ہیں۔” لیکن یہ واضح نہیں کہ وہ کس قانون کی بات کر رہے ہیں۔انھوں نے ہفتہ کے اپنے ٹویٹ میں ڈیموکریٹس پر زور دیا ہے کہ وہ ری پبلکنس کے ساتھ مل کر ایک نیا قانون بنائیں۔بہر حال ناقدین کا کہنا ہے کہ بچوں کو والدین سے علیحدہ حراست میں رکھنے کی پالیسی کا اعلان گذشتہ ماہ امریکی اٹارنی جنرل جیف سیشنز نے کیا تھا اور اس کو روکنے کے لیے کانگریس کے اقدام کی ضرورت نہیں۔دریں اثنا حکام نے شہر خیمہ بنانے کے منصوبے کا علان کیا ہے تاکہ ٹیکساس کے ریگستان میں جہاں درجئہ حرارت مستقل طور پر 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے مزید سینکڑوں بچوں کو رکھا جا سکے ۔مقامی قانون ساز جوز روڈریگیز نے اس منصوبے کو مکمل طور پر ”غیر انسانی اور اشتعال انگیز” قرار دیا ہے ۔ اس کے ساتھ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ”جو کوئی بھی اخلاقی ذمہ داریوں کا حامل ہے وہ اس کی مذمت کرے گا۔”