نئی دہلی 8 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) عوام پر کرایوں میں غیرمعمولی اضافہ کا بوجھ پہلے ہی عائد کرنے کے بعد ریل بجٹ 2014-15 ء میں کرایوں اور شرح باربرداری میں نظرثانی سے گریز کیا گیا ہے۔ تاہم خانگی اور غیرملکی راست سرمایہ کاری کے علاوہ پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ جیسے اصلاحات کی بھرپور تائید کی گئی تاکہ مالی بحران سے نمٹا جاسکے۔ وزیر ریلوے سدانند گوڑا نے آج لوک سبھا میں ریل بجٹ 2014-15 ء پیش کرتے ہوئے کہاکہ وہ ریلوے وسائل کو مجتمع کرنے اور انفراسٹرکچر شعبہ میں فنڈس کے لئے سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ حکومت نے بجٹ سے پہلے ہی مسافرین کے کرایوں میں 14.2 اور شرح باربرداری میں 6.5 فیصد کا اضافہ کردیا تھا جس سے اُسے 8 ہزار کروڑ روپئے حاصل ہوں گے۔ وزیراعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست گجرات کو تحفہ پیش کرتے ہوئے اُنھوں نے ممبئی تا احمدآباد سیکٹر پر بُلٹ ٹرین متعارف کرنے کے منصوبہ کا اعلان کیا جس پر 60 ہزار کروڑ روپئے کے مصارف ہوں گے۔ سدانند گوڑا نے کہاکہ بجٹ میں بدانتظامیوں اور خامیوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ مقبول ترین پراجکٹس کا اعلان تو کیا گیا ہے
لیکن کئی سال سے انھیں پورا کرنے کے لئے فنڈس کی قلت ہے۔ مابعد بجٹ اُنھوں نے بتایا کہ فیول اڈجسٹمنٹ کاسٹ (ایف اے سی) فارمولہ برقرار رہے گا جس کے تحت کرایوں اور شرح باربرداری میں ہر 6 ماہ میں ایک مرتبہ اضافہ ہوتا رہے گا۔ اُنھوں نے کہاکہ وسائل کے بحران سے دوچار ریلوے کے لئے حکومت خانگی شعبہ اور غیرملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کا منصوبہ ہے۔ ہمیں بُلٹ ٹرین چلانے کے لئے بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ ریلویز میں ایف ڈی آئی (غیر ملکی راست سرمایہ کاری) پر امتناع عائد ہے، اب ہم وزیر کامرس سے درخواست کریں گے کہ اِس جملہ کو حذف کردیں تاکہ انفراسٹرکچر کو فروغ دینے کے لئے ایف ڈی آئی کی اجازت دی جاسکے۔
ریلوے سکیوریٹی اور تحفظ کے لئے بجٹ میں اڈوانسڈ ٹیکنالوجی متعارف کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے اور اِس کے لئے 1,785 کروڑ روپئے کی رقم مختص کی گئی۔ خواتین کے سفر کو محفوظ بنانے کے لئے ریلوے 4 ہزار خاتون کانسٹبلس کا تقرر کرے گا۔ خواتین کے لئے مختص کمپارٹمنٹس میں سکیورٹی کا انتظام رہے گا۔ انڈین ریلوے نیٹ ورک کو عصری بنانے کے لئے ممبئی تا احمدآباد سیکٹر پر بُلٹ ٹرین کے علاوہ 9 منتخبہ سیکٹرس میں ٹرینس کی رفتار کو بڑھاکر 160 تا 200 کیلو میٹر فی گھنٹہ کرنے کی بھی تجویز رکھی گئی ہے۔ منتخبہ اسٹیشنس کو بین الاقوامی معیار کے مطابق فروغ دیا جائے گا اور یہاں نئے ترقیاتی ایرپورٹس کی طرز پر عصری سہولیات فراہم کریں گے۔ ریلویز نے مختلف اسٹیشنس اور ریلوے عمارتوں کے علاوہ اراضی پر شمسی توانائی سے استفادہ کی بھی تجویز رکھی ہے۔ بجٹ میں ریلوے سے متعلق تعلیم کی فراہمی کے لئے ریلوے یونیورسٹی قائم کرنے کی بھی تجویز پیش کی گئی ہے۔
ریل بجٹ 2014 – 15 کی جھلکیاں
٭ گزشتہ دنوں کے اضافہ کے بعد ریلوے کرایوں وباربرداری شرح میں اضافہ سے گریز ۔
٭ ممبئی ۔ احمد آباد سیکٹر پر بلٹ ٹرین شروع کرنے کا منصوبہ ۔
٭ 9 سیکٹرس میں ٹرینوں کی رفتار کو 160 – 200 کیلو میٹر فی گھنٹہ کرنے کی تجویز ۔
٭ آن لائین بکنگ سہولت سے فی منٹ 7,200 ٹکٹس کی اجرائی ممکن ہوسکے گی ۔
٭ ریزرویشن نظام بہتر بنایا جائیگا ۔ موبائیل فونس و پوسٹ آفس سے بکنگ کی سہولت ۔
٭ خواتین کوچس میں خاتون کانسٹیبلس کی تعیناتی ۔ 4000 کانسٹیبلس بھرتی کی جائیں گی ۔
٭ تمام اسٹیشنوں پر ریٹائرنگ روم کی سہولیات فراہم کی جائیں گی ۔
٭ بڑے اسٹیشنوں پر معذورین اور معمرین کیلئے بیٹری سے چلنے والی گاڑیوں کی سہولت ۔
٭ تمام بڑے اسٹیشنوں پر فوڈ کورٹس کا قیام ۔ ایس ایم ایس اور فون سے آرڈر کی سہولت ۔
٭ 58 نئی ٹرینیں شروع کی جائیں گی ۔ جن میں 6 اے سی و27 ایکسپریس ٹرینس ہونگی ۔
ؐ٭ ٹرینوں اور بڑے اسٹیشنوں پر صفائی پر خاص توجہ ۔ ٹرینس میں ہاوز کیپنگ کی سہولت ۔
٭ ریلوے میں بھی راست بیرونی سرمایہ کاری کی تجویز زیر غور ۔
٭ ریلوے کے صفائی سے متعلق اخراجات میں 40 فیصد کا اضافہ ۔
٭ منتخب ٹرینوں میں انٹرنیٹ اور ورک اسٹیشن کی سہولت فراہم کی جائیگی ۔