نئی دہلی۔ 8 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس نے آج ریل بجٹ کو ’’مال داری حامی‘‘ قرار دیتے ہوئے اس پر تنقید کی ۔ سابق وزیر ریلوے ملکارجن کھرگے نے پُرزور اندا ز میں کہا کہ کسی بھی نئی اسکیم سے عام آدمی کو فائدہ نہیں پہنچتا۔ یہ بجٹ وزیراعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست کی خوشنودی حاصل کرنے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے چنانچہ نئی ریلوے لائن بچھانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے ممبئی ۔ احمد آباد سیکٹر کیلئے بلٹ ٹرین کا آغاز کرنے اور ڈائمنڈ کوآڈری لائیٹرل نیٹ ورک قائم کرنے کے منصوبہ کا بھی مذاق اُڑایا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس پراجیکٹ کے لئے 100 کروڑ روپئے فراہم کررہی ہے، جبکہ اس رقم سے 4 تا 5 کیلومیٹر طویل ریلوے لائن تعمیر کی جاسکتی ہے۔ اس لئے یہ منصوبہ صرف ایک منصوبہ نہیں رہے گا ۔ انہوں نے کہا کہ کئی اعلانات کئے گئے ہیں لیکن وہ صرف اعلانات ہی رہیں گے۔ یہ سرکاری ۔ خانگی شراکت داری اور راست غیرملکی سرمایہ داری کا بجٹ ہے، ریل بجٹ نہیں ہے۔ اس بجٹ کا غریبوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایک اور سابق وزیر ریلوے پون کمار بنسل نے بھی موجودہ وزیر ریلوے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ریلوے بجٹ میں کوئی نئی بات نہیں کہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بندرگاہوں کو ریلوے لائن کے ذریعہ مربوط کرنا اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی متعارف کرنا پہلے ہی سے منصوبہ بند تھا۔ آج بی جے پی زیرقیادت حکومت کہہ رہی ہے کہ ریلوے لائن سے بندرگاہوں کو مربوط کیا جائے گا اور اس کی وجہ سے بندرگاہوں اور کارخانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوجائے گا۔