حیدرآباد /9 جولائی (سیاست نیوز) صدر تلنگانہ پردیش کانگریس پنالہ لکشمیا نے اچھے دن صرف بی جے پی اور مودی کے لئے قرار دیتے ہوئے ریلوے بجٹ کو مایوس کن اور تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی قرار دیا۔ آج گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بی جے پی اور نریندر مودی نے انتخابی مہم کے دوران اچھے دن آنے کا عوام کو تیقن دیا تھا، مگر ڈیڑھ ماہ گزرنے کے بعد صرف مودی اور بی جے پی کے لئے اچھے دن آئے ہیں۔ غریب عوام پر زائد مالی بوجھ بڑھ رہا ہے۔ این ڈی اے حکومت نے ریلوے بجٹ پیش کرنے سے قبل ریل کرایوں میں 14 فیصد اضافہ کرکے عوام کی امیدوں پر پانی پھر دیا۔ انھوں نے کہاکہ کل این ڈی اے حکومت کی جانب سے پیش کردہ ریلوے بجٹ عوام کے لئے مایوس کن رہا اور ساتھ ہی تلنگانہ ریاست کے ساتھ انصاف نہیں ہوا۔ انھوں نے کہا کہ بجٹ میں غریب عوام کی سہولتوں کو اہمیت نہیں دی گئی اور نہ ہی ریاستوں کے مفادات کو مدنظر رکھا گیا، صرف ریلوے کو خانگی شعبہ کے حوالے کرنے کو زیادہ ترجیح دی گئی۔
انھوں نے مرکز سے تلنگانہ سے ہوئی ناانصافی کا دوبارہ جائزہ لینے کا مطالبہ کیا۔ پنالہ لکشمیا نے چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ کو مشورہ دیا کہ وہ ایک مسئلہ کو حل کرنے کے لئے دوسرے مسائل نہ پیدا کریں۔ انھوں نے کل چیف منسٹر کی جانب سے تلنگانہ کی ترقی کے لئے طلب کردہ جائزہ اجلاس پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 13 سال سے تلنگانہ تحریک چلانے والے کے سی آر تلنگانہ کے مسائل سے واقف نہیں ہیں۔ اگر وہ مسائل سے ناواقف تھے تو انھوں نے پارٹی کا انتخابی منشور کیسے جاری کیا؟۔ انھوں نے کہا کہ کسانوں کے قرضہ جات کی معافی کے تعلق سے واضح اعلان نہ ہونے کی وجہ سے کسانوں میں الجھن پائی جا رہی ہے۔ علاوہ ازیں متبادل انتظامات کے لئے عملی اقدامات نہیں کئے گئے۔ انھوں نے کہا کہ راشن کارڈس کی منسوخی کا اعلان کرتے ہوئے عوام میں بے چینی اور طلبہ کی فیس باز ادائیگی کے معاملے میں مقامی (لوکل) مسئلہ پر بھی الجھن پیدا کی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اراضیات واپس لی جائیں، لیکن کسی کے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچائی جائیں، کیونکہ کسی بھی کمپنی یا ادارے کو اراضی دیتے وقت مقررہ مدت میں پراجکٹ کی تکمیل کو لازمی قرار دیا جاتا ہے، بصورت دیگر اراضی واپس لینے حکومت کو مکمل اختیار ہوتا ہے، لہذا ایسی چھوٹی چھوٹی چیزوں کو اہمیت دے کر عوامی کی توجہ مسائل سے ہٹانے کی کوشش نہ کی جائے۔ بوگس راشن کارڈ اور مقامی (لوکل) مسئلہ پر کانگریس کے موقف کے تعلق سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جہاں تک کانگریس کا تعلق ہے تو مقامی شناخت کے لئے پہلے جو فارمولہ تھا، اسی پر عمل ہونا چاہئے، راشن کارڈ اور خاندان کو ایک دوسرے سے نہ جوڑا جائے۔