درخواست گذار کسی بھی پاسپورٹ سیواکیندرا پر ادخال فارم کے اہل
حیدرآباد ۔ 7 جون (ایجنسیز) حیدرآباد کو 10 سال کیلئے دونوں ریاستوں یعنی تلنگانہ اور آندھراپردیش کا مشترکہ دارالحکومت بنانے کے ساتھ، ریجنل پاسپورٹ آفس حیدرآباد کی جانب سے دونوں ریاستوں کے درخواست گذاروں کو پاسپورٹس کی اجرائی کو جاری رکھا جائے گا۔ آندھراپردیش میں وشاکھاپٹنم میں بھی ایک پاسپورٹ آفس ہے جو پانچ شمالی ساحلی اضلاع مغربی گوداوری، مشرقی گوداوری، وشاکھاپٹنم، سریکاکلم اور پرکاشم کی ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے خدمات انجام دے رہا ہے۔ اس طرح وشاکھاپٹنم آفس سے آنے والے برسوں میں اے پی کی ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے کہا جاسکتا ہے۔ پاسپورٹ کے حصول کیلئے درخواست گذار دونوں ریاستوں میں کسی بھی پاسپورٹ سیوا کیندرا پر درخواست داخل کرسکتے ہیں۔ نئی ریاست تلنگانہ میں پہلا پاسپورٹ 2 جون کو جاری کیا گیا۔ پاسپورٹ عہدیداروں نے کہا کہ سافٹ ویر آندھراپردیش انڈیا کو تلنگانہ، انڈیا میں خودبخود تبدیل کردیا۔ کتابچہ کے آخری صفحہ پر آندھراپردیش کی جگہ تلنگانہ کے نام کے ساتھ نئے پاسپورٹس اضلاع حیدرآباد، رنگاریڈی، نظام آباد، کریم نگر، ورنگل، عادل آباد، کھمم، میدک، محبوب نگر اور نلگنڈہ کے عوام کو جاری کئے جائیں گے۔ فی الوقت تلنگانہ میں پانچ پاسپورٹ سیواکیندراس (پی ایس کے) ہیں۔ حیدرآباد میں تین (امیر پیٹ، بیگم پیٹ اور ٹولی چوکی ) اور نظام آباد اور کریم نگر میں ایک ایک۔ ضلع کریم نگر میں ایک منی پی ایس کے بھی کام انجام دے رہا ہے۔ ریاست کی تقسیم کو ذہن میں رکھتے ہوئے وزارت خارجہ امور کی جانب سے حال میں ایک سینئر ایم ای اے عہدیدار این ایل پی چودھری کو ریجنل پاسپورٹ آفیسر، وشاکھاپٹنم مقرر کیا گیا ہے۔ آندھراپردیش میں پاسپورٹ سیوا کیندراس (پی ایس کیند) وشاکھاپٹنم، وجئے واڑہ اور تروپتی میں قائم ہیں۔ بھیماورم، ضلع مغربی گوداوری میں ایک منی پی ایس کے قیام کیلئے کاوشیں جاری ہیں۔