تلنگانہ قانون ساز کونسل میں تلگودیشم ارکان کے سوالات پر ٹی ہریش راؤ کا جواب
حیدرآباد ۔ 13 مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے ریت کی نکاسی اور فروخت کے مسئلہ پر قانون ساز کونسل میں اپوزیشن جماعتوں کی تنقیدوں و الزامات کو مسترد کردیا اور کہا کہ محض عوامی مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے حکومت تلنگانہ اپنی نئی ریت پالیسی کا گذشتہ ماہ ڈسمبر میں اعلان کرچکی ہے اور ساتھ ہی ساتھ عوام کو آسانی کے ساتھ ریت کی دستیابی کو یقینی بنانے کیلئے باقاعدہ طور پر قیمت کا تعین کرکے ویب سائیٹ پر آن لائن کے ذریعہ بکنگ کرکے ریت حاصل کرنے کی سہولت فراہم کرنے کے اقدامات کی ہے۔ تاہم ان اقدامات کو مکمل عملی جامہ پہنانے تک کچھ وقت درکار ہوگا۔ آج یہاں کونسل میں رکن کونسل تلگودیشم پارٹی مسرس اے نرساریڈی اور پی ناگیشور راؤ کی جانب سے وقفہ سوالات کے دوران ریت کی مائننگ بالخصوص منجیرا ندی سے کئے جانے کے مسئلہ پر پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیرآبپاشی و معدنی وسائل مسٹر ٹی ہریش راؤ نے مذکورہ اظہارخیال کیا اور اپوزیشن جماعتوں کو اپنی سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ گذشتہ 10 سال سے سابق حکومت نے ریت کی نکاسی (غیرمجاز فروخت) کو سیاسی قائدین کیلئے روزگار اسکیم بنا رکھی تھی لیکن آج مسٹر کے چندرشیکھر راؤ چیف منسٹر تلنگانہ کی قیادت میں ریت کی نکاسی کو انتہائی شفاف بنایا گیا۔ سینکڑوں لاریوں وغیرہ کے خلاف سخت کارروائی کی جارہی ہے۔ ندی کے ساحل پر پائے جانے والے تمام اراضیات پٹہ جات منسوخ کردیئے گئے ہیں اور ریاست میں فی الوقت 8 مقامات پر ہی ریت نکالنے کے مراکز بنائے گئے اور فی الوقت صرف 9 کیوبک میٹر ریت کی سربراہی عمل میں لائی جارہی ہے لیکن اس سے کئی گنا اضافہ ریت کا ڈیمانڈ پایا جارہا ہے۔ وزیرمعدنی وسائل مسٹر ہریش راؤ نے اپوزیشن ارکان کے ان خدشات کو دور کردیا کہ ایک ہی رسید پر دس لوڈ ریت کی منتقلی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن ارکان کے ان خدشات کو بھی دور کرنے کیلئے حکومت نے آئندہ دنوں میں ریتی کی رسیدوں کو بار کوڈ دینے کے اقدامات انجام دے رہی ہے۔ وزیرموصوف نے کہا کہ ریاست تلنگانہ کے مختلف مقامات پر غیرمجاز ریتی کی نکاسی پر لاریوں، جیپ گاڑیوں، ٹریکٹرس و آٹو رکشاؤں کو ضبط کرنے کے اقدامات کئے گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ دنوں میں ریت کی نکاسی کے ذریعہ حکومت کیلئے 500کروڑ روپئے کی آمدنی کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جائیں گے۔ مسٹر ہریش راؤ نے مزید کہا کہ اگر کسی کو ریت کی منتقلی وغیرہ سے متعلق کوئی شکایت ہو یا کوئی غیرمجاز منتقلی کی اطلاع دیتا ہو تو فون نمبر 23393156 پر نہ صرف مطلع کرسکتے ہیں بلکہ ربط پیدا کرکے باقاعدہ طور پر شکایت بھی کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ دنوں میں ریت کی مبینہ قلت کو پیش نظر رکھتے ہوئے حکومت ’’راک سینڈ‘‘ کی ہمت افزائی کررہی ہے۔ اگر کوئی راک سینڈ کیلئے پیشرفت کرنے کی صورت میں انہیں حکومت کی جانب سے ترغیبات فراہم کی جائیں گی۔ علاوہ ازیں انہوں نے عوام اور بلڈرس وغیرہ سے بھی راک سینڈ کے استعمال پر توجہ دینے کی پرزور اپیل کی۔ رکن قانون ساز کونسل تلگودیشم پارٹی مسٹر اے نرساریڈی نے ریت کی غیرمجاز منتقلی بالخصوص مانجرا ندی سے منتقلی کے واقعات کا تفصیلی تذکرہ کیا اور کہا کہ اس غیرمجاز ریت منتقلی معاملوں میں خود سیاسی قائدین بھی ملوث پائے جارہے ہیں اور اس طرح بڑے پیمانے پر ضلع نظام آباد میں ریت مافیا ٹولیاں پائی جاتی ہیں۔ انہوں نے حکومت کو اپنی سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت اگر ڈوبے گی تو صرف اور صرف ریت کے مسئلہ پر ہی ڈوبے گی۔ انہوں نے کہا کہ مانجرا ندی سے ہر روز لاکھوں ٹن ریت کی غیرمجاز منتقلی کی جارہی ہے لیکن سرکاری ضلع کی سرکاری مشنری کوئی کارروائی کرنے کے بجائے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے لہٰذا ریت کی غیرمجاز منتقلی کو روکنے اور مکمل شفافیت پیدا کرنے کیلئے سخت اقدامات کرنے کا حکومت سے پرزور مطالبہ کیا۔