ریاست کے مفادات کے تحفظ میں چندرا بابو نائیڈو ناکام

حیدرآباد۔ 5فروری (سیاست نیوز) صدر آندھرا پردیش کانگریس کمیٹی مسٹر این رگھوویرا ریڈی نے مرکزی حکومت کی جانب سے اسپیشل پیاکیج کے تحت صرف 350 کروڑ روپئے منظور کرنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اس کو آندھرا پردیش کی توہین قرار دیا۔ آج اندرا بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر این رگھوویرا ریڈی نے کہا کہ کانگریس نے تقسیم ریاست کے بِل میں آندھرا پردیش کو پانچ سال تک خصوصی ریاست کا رتبہ دینے کی قانونی گنجائش فراہم کی تھی، تاہم ریاست کی تقسیم کے9 ماہ بعد بھی مرکزی حکومت نے قانون پر عمل آوری نہیں کی اور نہ ہی چیف منسٹر آندھرا پردیش مسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے اس معاملے میں کوئی دلچسپی لی ہے۔ مرکزی حکومت نے اسپیشل پیاکیج کے تحت 350 کروڑ روپئے منظور کرتے ہوئے آندھرا پردیش کی توہین کی ہے۔ آندھراپردیش کے 13 کے منجملہ 7 پسماندہ اضلاع کو فی کس 50 کروڑ روپئے کے حساب سے 350 کروڑ روپئے منظور کئے گئے ہیں جبکہ ریاستی حکومت نے اسپیشل پیاکیج کے تحت 24,350 کروڑ روپئے منظور کرنے نمائندگی کی تھی۔ مرکزی حکومت نے 24 ہزار کروڑ روپئے کو نظرانداز کرتے ہوئے صرف 350 کروڑ روپئے منظور کیا ہے۔ اس کے علاوہ معاشی خسارے کو دُور کرنے کیلئے 13,500 کروڑ روپئے کی نمائندگی کی گئی تھی اس میں بھی 13 ہزار کروڑ روپئے کو نظرانداز کرتے ہوئے صرف 500 کروڑ روپئے منظور کیا گیا ہے۔ صدر آندھرا پردیش کانگریس کمیٹی مسٹر این رگھوویرا ریڈی نے کہا کہ صدر تلگو دیشم پارٹی و چیف منسٹر مسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے سیما۔ آندھرا کو بی جے پی کے حوالے کردیا ہے۔ نئی ریاست کے مفادات کا تحفظ کرنے کے بجائے بی جے پی اور وزیراعظم نریندر مودی کی آؤ بھگت میں سارا وقت ضائع کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔