ایم ایل سیز کے انتخاب پر صدر پی سی سی کا چیف منسٹر کو مکتوب ، ایم ایل سیز کے انتخاب کو التواء میں رکھنے پر ناراضگی
حیدرآباد ۔ 17 ۔ فروری : ( سیاست نیوز) : صدر پردیش کانگریس کمیٹی مسٹر بوستہ ستیہ نارائنا نے چیف منسٹر کرن کمار ریڈی کو سخت مکتوب روانہ کرتے ہوئے گورنر کوٹہ کے ایم ایل سی ارکان کو زیر التواء رکھنے اور کونسل کے لیے چیف وہپ اور وہپس کے انتخاب پر سخت اعتراص کیا ہے ۔ ریاست میں بالخصوص سیاسی صورتحال بڑی تیزی سے تبدیل ہورہی ہے ۔ کانگریس میں افراتفری کا ماحول پیدا ہوگیا ہے ۔ صدر پردیش کانگریس کمیٹی نے آج چیف منسٹر کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے گورنر کوٹہ کے ایم ایل سی ارکان کے انتخاب کو زیر التواء رکھنے کی وجہ دریافت کی ۔ انہوں نے اپنے مکتوب میں بتایا کہ پسماندہ طبقات کانگریس کی ریڑھ کی ہڈی ہے ۔ کانگریس ہائی کمان نے تین ناموں کو منظوری دی ہے ۔ اس کو زیر التواء رکھنا درست نہیں ہے عین انتخابات سے قبل اس طرح کے فیصلے کانگریس پارٹی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی تقسیم کے موقع پر حالت کشیدہ ہے ایسے میں کونسل کے لیے چیف وہپ کے علاوہ رنگاریڈی اور ریڈا پاریڈی کو وہپ نامزد کرنے پر حیرت کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ وہپس کے انتخاب سے کانگریس پارٹی کو کوئی فائدہ ہونے والا نہیں ہے ۔ اس کو اہمیت دی جارہی ہے ۔ جس سے فائدہ ہونے والے ایم ایل سی کو زیر التواء رکھنا درست نہیں ہے ۔ صدر پردیش کانگریس کمیٹی کی جانب سے چیف منسٹر کو مکتوب روانہ کرنے پر ان دونوں کے درمیان اختلاف پھر ایکبار عیاں ہوگئے ہیں ۔ ریاست کی تقسیم کے مسئلہ پر چیف منسٹر کرن کمار ریڈی سیما آندھرا کے کانگریس قائدین مستعفی ہونے اور نئی پارٹی تشکیل دینے کے حق میں ہے جس کے صدر پردیش کانگریس کمیٹی مسٹر بی ستیہ نارائنا خلاف ہیں ۔۔