حیدرآباد۔/7مارچ، ( سیاست نیوز) ٹی آر ایس سربراہ کے چندر شیکھر راؤ نے واضح کیا کہ ریاست کی تقسیم اب قانون کی شکل اختیار کرچکی ہے اور کوئی بھی طاقت ریاست کی تقسیم کے عمل کو روک نہیں پائے گی۔ کے سی آر آج شام تلنگانہ بھون میں محبوب آباد ضلع ورنگل کے تلگودیشم انچارج نہرو نائیک اور دیگر قائدین کی ٹی آر ایس میں شمولیت کے موقع پر جلسہ سے خطاب کررہے تھے۔ کے سی آر نے کہا کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بل کی منظوری اور پھر صدر جمہوریہ کی جانب سے ریاست کی تقسیم کو منظوری کے بعد تلنگانہ کی تشکیل کا عمل قانونی شکل اختیار کرچکا ہے اور اسے روکا نہیں جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے 2جون کو نئی ریاست کے قیام کی تاریخ مقرر کی ہے لہذا عام انتخابات کے ساتھ ہی دو علحدہ ریاستیں کام کرنا شروع کردیں گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریاست کی تقسیم کو قانونی حیثیت حاصل ہونے کے باوجود سیما آندھرا کے بعض قائدین ابھی بھی تقسیم کا عمل روکنے کا دعویٰ کرتے ہوئے عوام کو گمراہ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیما آندھرا علاقہ میں اپنی گرفت مضبوط کرنے اور عوامی ہمدردی حاصل کرنے کیلئے اس طرح کی کوششیں کی جارہی ہیں۔
کے سی آر نے یقین ظاہر کیا کہ کوئی بھی طاقت اب تلنگانہ ریاست کی تشکیل کو روک نہیں پائے گی۔ 14برسوں کی مسلسل جدوجہد اور نوجوانوں کی قربانیوں کے بعد نئی ریاست کے حصول میں کامیابی ملی ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ نئی ریاست کے قیام کے ساتھ بعض ایسی شرائط عائد کی گئیں جو تلنگانہ کیلئے قابل قبول نہیں ہیں۔ نئی حکومت اس بات کی کوشش کرے گی کہ علاقہ کے ساتھ ناانصافیوں کا خاتمہ ہو۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ تلنگانہ کی تعمیرِ نو اور ہمہ جہتی ترقی میں اپنا حصہ ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ سنہری تلنگانہ ریاست اور عوام کے چہروں پر خوشی اور مسرت کی بحالی تک وہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ بیروزگار نوجوانوں اور کسانوں نے نئی ریاست کے ساتھ کئی امیدیں وابستہ کی ہیں اور حکومت کی کوشش رہے گی کہ ان کی امیدوں پر کھرا اُترے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ریاست میں سب سے زیادہ فائدہ دلتوں اور قبائیل کو ہوگا۔ انہوں نے تلنگانہ ریاست میں ہر شعبہ میں 12% تحفظات کی فراہمی کا اعلان کیا۔ کے سی آر نے دیگر پسماندہ طبقات اور درج فہرست اقوام کی بھلائی کیلئے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کا تیقن دیا۔ انہوں نے کہا کہ تلگودیشم کی مخالف تلنگانہ پالیسی کے باعث اس کے قائدین ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے خود کو ریاست کی ترقی میں حصہ دار بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے ورنگل کے تلگودیشم قائدین کا استقبال کیا اور کہا کہ ان کی شمولیت سے ضلع میں ٹی آر ایس کا موقف مستحکم ہوگا۔