سکریٹریٹ،اسمبلی و کونسل ،منسٹرس کوارٹرس، ایم ایل ایز کوارٹرس دونوں ریاستوں کے تصرف میں
حیدرآباد 20 مارچ (سیاست نیوز )ریاست کی تقسیم کا عمل جہاں تیزی کے ساتھ جاری ہے وہیں دونوں ریاستوں ( تلنگانہ و آندھرا پردیش) کیلئے سرکاری عمارتوں کی تقسیم کے عمل میں بھی تیزی پیدا کردی گئی ہے۔ اس طرح فی الوقت پائی جانے والی اہم ترین سرکاری عمارتوں ریاستی سکریٹریٹ، ریاستی قانون ساز اسمبلی و کونسل، منسٹرس کوارٹرس ایم ایل ایز کوارٹرس کو ہی دونوں ریاستیں متحدہ طور پر استعمالکرلینے کی ضرورت ہوگی۔ بتایا جاتا ہیکہ آج شام راج بھون میں ریاستی گورنر مسٹر ای ایس ایل نرسمہن سے چیف سکریٹری ڈاکٹر پی کے موہنتی کے ہمراہ پرنسپال سکریٹریز محکمہ عمارات و شوارع شیام بابو و دیگر اعلی عہدیداروں کے ساتھ ملاقات کی۔ نئی ریاست تلنگانہ کا یوم تاسیس ( اپائمنٹ ڈیٹ )2 جون جیسے جیسے قریب آرہی ہے ریاست کی تقسیم کے عمل میں اتنی ہی تیزی پیدا کردی گئی ہے۔ باوثوق سرکاری ذرائع کے مطابق بتایا جاتا ہیکہ چیف سکریٹری و دیگر اعلی عہدیداران محکمہ عمارات و شوارع کی ریاستی گورنر کے ساتھ ہوئی ملاقات کے دوران دونوں ریاستوں کیلئے ریاستی سکریٹریٹ، اسمبلی، قانون ساز کونسل ، وزراء و ارکان اسمبلی وغیرہ کیلئے رہائشی کوارٹرس، سرکاری گیسٹ ہاوزس و دیگر سرکاری عمارتوں کی تقسیم کے مسئلہ پر تفصیلی تبدالہ خیال کیا گیا
بلکہ غور و خوص کیا گیا اور بتایا گیا کہ موجودہ حالات میں پائی جانے والی سرکاری عمارتوں ریاستی سکریٹری قانون ساز اسمبلی و کونسل، منسٹرس کوارٹرس، ایم ایل ایز کوارٹرس کو دونوں ہی ریاستوں کیلئے استعمال کرلینا پڑے گا اس سلسلہ میں مناسب انتظامات کئے جائیں گے ۔ ریاستی سکریٹریٹ کے مسئلہ پر بتایا گیا کہ موجودہ سکریٹریٹ کے احاطہ میں ہی دونوں ریاستوں کے سکریٹریٹس بنادیئے جائیں گے اور دونوں سکریٹریٹس کیلئے علحدہ علحدہ باب الداخلے بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ تاہم قدیم باب الداخلہ چونکہ واستو کے لحاظ سے نہ رہنے کی وجہ سے اس کا استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے سکریٹریٹ کے احاطہ میں پائے جانے والے ہیلی پیاڈ گراونڈ کے پاس ایک اور نیا باب الداخلہ بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسی ذرائع کے مطابق بتایا جاتا ہیکہ ریاستی سکریٹریٹ میں موجودہ سی بلاک ( جہاں ابتک چیف منسٹر بھی رہا کرتے تھے) کس ریاست کیلئے مختص کیا جائے گا اس سلسلہ میں ابھی کوئی قطعی فیصلہ نہیں کیاگیا ہے ۔سلسلہ :صفحہ 8 پر۔