ریاست نظام کی بس کو حیدرآباد واپس لانے کا مطالبہ

وجئے واڑہ میں بس کی نمائش ، بس حیدرآبادکا اثاثہ ، انورادھا ریڈی
حیدرآباد ۔ 7 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : کنوینر انٹاک اینڈ ملکی حیدرآبادی سٹیزن انورادھا ریڈی نے اس بات کا مطالبہ کیا کہ 1932 Circa دکن کوئین بس جس کو البین موٹرس اسکاٹ لینڈ نے تیار کیا تھا کو موجودہ طور پر وجئے واڑہ بس اسٹیشن پر نمائش کے لیے رکھا گیا ہے ۔ اس بس کو حیدرآباد واپس کیا جائے جب کہ یہ حیدرآباد کا قیمتی اثاثہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب جب کہ ریاست کی تقسیم پر اثاثہ جات بھی تقسیم ہورہے ہیں اس اے پی ایس آر ٹی سی البین ماڈل کی پہلی بس کو واپس کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلی بس نظام اسٹیٹ ریلوے روڈ ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ سے تعلق رکھتی ہے ۔ ان دنوں نظام اسٹیٹ ریلویز ، ریلویز روڈ ویز اور ایر نیٹ ورک کا انتظام چلاتی تھی ۔ اس بس کو حیدرآباد میں چلایا جاتا تھا بعد ازاں اس کو وجئے واڑہ منتقل کیا گیا ۔ ایک بس سکندرآباد بس بھون

اور دوسری وجئے واڑہ بس اسٹیشن میں نمائش کے لیے رکھی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں محکمہ آر ٹی سی کو کئی نمائندگیاں کی گئیں تاہم بے سود رہیں ۔ اس بس کو اسکاٹ لینڈ میں 1932 میں تیار کیا گیا ۔ اس بس کے ایک اور ماڈل کو راہروں کو متوجہ کرنے کی غرض بس بھون مشیر آباد میں رکھا گیا ۔ اس بس کے فیول ٹینک کی گنجائش 25 لیٹر ہے ۔ بس میں بشمول ڈرائیور و کنڈاکٹر 19 نشستیں ہیں ۔ جس وقت ریاست نظام کو ہندوستان میں ضم کیا گیا ہے معاہدہ کیا گیا تھا کہ ہر بس پر لفظ ’ Z ‘ موجود رہے گا ۔ جب کہ لفظ ’ Z ‘ کی علامت نظام ہفتم کی اہلیہ زہرہ بیگم کے نام سے تھی اور اس وقت سے ہر بس کے نمبر میں لفظ Z آتا ہے ۔ اے پی ایس آر ٹی سی کا قیام 1932 میں ہوا جب کہ البین موٹرس اسکاٹ لینڈ کی تیار کردہ 27 بسوں کو درآمد کیا گیا تھا ۔ سکندرآباد بس بھون میں رکھی بس کو مخصوص موقعوں پر باہر لایا جاتا رہا ہے ۔ حال میں جب جے پورن چندرا راؤ نے اے کے خاں سے جائزہ لیا تھا تب اس بس کو درستگی کے لیے گنٹور لے جایا گیا تھا ۔۔