ریاستی یونیورسٹیز کو ترقیاتی فنڈس کی ہنوز عدم اجرائی

حیدرآباد۔ 14 مارچ (سیاست نیوز) ریاست کی اسٹیٹ یونیورسٹیز کو جاریہ مالی سال کا ترقیاتی فنڈ ہنوز جاری نہیں کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں یونیورسٹی انتظامیہ خاصا فکر مند نظر آرہا ہے ۔حال ہی میں تقرر کردہ محکمہ تعلیم کے سیکریٹری بی جناردھن سے ریاست کی گیارہ یونیورسٹیوں کے وائیس چانسلرس نے اس سلسلے میں ملاقات بھی کی تھی اور اس بات کی اپیل کی تھی کہ انہیں مالی سال کے احتتام تک ترقیاتی فنڈ کی اجرائی کو یقینی بنایا جائے ۔عثمانیہ یونیورسٹی کے وائیس چانسلر کا کہنا ہے کہ صرف عثمانیہ یونیورسٹی کا ترقیاتی فنڈ ساٹھ کروڑروپئے سالانہ ہے اور سال 2018-19ء یعنی جاریہ مالی سال کے اختتام کو اب محض پندرہ دن باقی رہ گئے ہیں ایسے میں اگر 31 مارچ تک فنڈ کی اجرائی ممکن نہیں ہوتی ہے تو پھر فنڈ بے فیض ہوجائے گا ۔پٹی سری راملو تلگو یونیورسٹی کے وائیس چانسلر ایس وی ستیہ نارائینہ نے بھی شکایت کی ہے کہ یونیورسٹی میں ایڈمنسٹریٹر بلڈنگ کی تعمیر کا کام جاری ہے جبکہ بوائیز ہاسٹل کی بلڈنگ بھی زیر تعمیر ہے اور اقتصادی سال برائے 2018-19ء مکمل ہونے میں محض پندرہ دن رہ گئے ہیں اور انہیں ترقیاتی فنڈ کے تین کروڑ روپئے ابھی تک جاری نہیں کئے جاسکے ہیں ۔ان کا احساس ہے کہ اگر 31 مارچ تک فنڈ جاری نہیں ہوا تو پھر کام رک جائینگے اور مقررہ تاریخ کے بعد رقم کی اجرائی بھی بے فیض ہی ثابت ہوتی کیونکہ رقم اقتصادی سال کے اختتام سے پہلے ہی صرف کرنی ہوتی ہے ۔