ریاستی وقف بورڈ کی دونوں ریاستوں میں تقسیم اختتامی مرحلہ میں داخل

سکریٹری مرکزی وزارت اقلیتی امور ڈاکٹر اروند مایارام کی حیدرآباد آمد
حیدرآباد۔/16اپریل، ( سیاست نیوز) ریاستی وقف بورڈ کی دونوں ریاستوں میں تقسیم اختتامی مراحل میں داخل ہوچکی ہے۔ مرکزی وزارت اقلیتی اُمور کے سکریٹری ڈاکٹر اروند مایارام تقسیم کے مرحلہ کو قطعیت دینے کیلئے نئی دہلی سے آج حیدرآباد پہنچے۔ ڈاکٹر اروند مایارام کل تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے اقلیتی بہبود کے سکریٹریز اور وقف بورڈ کے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس میں وقف بورڈ کی تقسیم کے آخری مراحل کو قطعیت دیں گے۔ توقع ہے کہ کل کے اجلاس کے بعد وقف بورڈ کی تقسیم سے متعلق احکامات جاری کردیئے جائیں گے۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر اروند مایارام کی قیادت میں مرکزی عہدیداروں کی ٹیم نے حال ہی میں حیدرآباد کا دورہ کرتے ہوئے وقف بورڈ کی تقسیم کا جائزہ لیا تھا۔ چونکہ وقف بورڈ مرکزی ایکٹ کے تحت ہے لہذا اس کی تقسیم کیلئے مرکز کی منظوری ناگزیر ہے۔ دونوں ریاستوں سے تفصیلات حاصل کرنے کے بعد مرکزی وزارت اقلیتی اُمور نے تقسیم کے مرحلہ اور طریقہ کار کو قطعیت دے دی ہے۔ اس کی تفصیلات سے دونوں ریاستوں کے عہدیداروں کو واقف کرایا جائے گا اور دونوں کے اتفاق رائے کے بعد وقف بورڈ کی تقسیم عمل میں آئے گی۔ دونوں ریاستوں کو تقسیم کے کسی بھی نکتہ پر اعتراض کا حق حاصل رہے گا۔ دونوں ریاستوں میں اوقافی جائیدادوں اور ان کے تحت موجود اراضیات کی تفصیلات پہلے ہی مرکز کے حوالے کی جاچکی ہیں۔ اس کے علاوہ دونوں ریاستوں میں وقف بورڈ کی آمدنی اور ملازمین کی تفصیلات بھی کمیٹی کے حوالے کی گئیں۔ تقسیم کے کام کو آسان بنانے کیلئے وقف بورڈ میں دونوں ریاستوں سے تعلق رکھنے والے فائیلوں کو پہلے ہی علحدہ کردیا گیا ہے۔ جنرل منیجر اقلیتی فینانس کارپوریشن سید ولایت حسین رضوی نے ڈاکٹر اروند مایا رام کا ایر پورٹ پر استقبال کیا اور ان کے قیام کے انتظامات کئے۔ واضح رہے کہ وقف بورڈ کو ایسے وقت تقسیم کیا جارہا ہے جبکہ اس میں اسپیشل آفیسر موجود نہیں اور چیف ایکزیکیٹو آفیسر کے عہدہ پر مستقل عہدیدار کے بجائے نگرانکار عہدیدار سے کام چلایا جارہا ہے۔ بورڈ کی تقسیم کے بعد آندھرا پردیش حکومت اسپیشل آفیسر کے عہدہ پر شیخ محمد اقبال کے تقرر کی تیاری کرچکی ہے جبکہ چیف ایکزیکیٹو آفیسر کے عہدہ پر کسی ڈپٹی کلکٹر رینک کے عہدیدار کو فائز کیا جائے گا۔