حیدرآباد۔ 2؍فروری (پی ٹی آئی)۔ آندھرا پردیش کے چیف منسٹر این کرن کمار ریڈی اور سیما۔ آندھرا کے دیگر قائدین نے ریاست کی تقسیم کے خلاف دہلی میں مرکزی قائدین پر دباؤ ڈالنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ چیف منسٹر نے اخباری نمائندوں سے کہا ہے کہ وہ صدر جمہوریہ ہند سے ریاست کی تقسیم کے خلاف نمائندگی کریں گے۔ تلگودیشم پارٹی اور وائی ایس آر کانگریس پارٹی کو بھی انھوں نے ریاست کو متحد رکھنے کی کوششوں میں شامل ہونے کی دعوت دی اور کہا کہ جس طرح انھوں نے اسمبلی میں تلنگانہ بِل کو اپنی متحدہ مخالفت کے ذریعہ مسترد کیا، بالکل اسی انداز میں دہلی میں بھی مشترکہ جدوجہد کی ضرورت ہے۔ مسٹر کرن کمار ریڈی نے کہا کہ تلگودیشم اور وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے قائدین کو چاہئے کہ وہ اگر چاہیں تو ان کے ساتھ یا خود اپنے طور پر صدر جمہوریہ سے ملاقات کرتے ہوئے ریاست کو متحد رکھنے کے لئے نمائندگی کریں۔ اس دوران تلگودیشم پارٹی نے بھی ریاست کی تقسیم کے خلاف اپنی کوششوں کو دہلی منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
تلگودیشم پارٹی کے ذرائع کے مطابق مسٹر چندرابابو نائیڈو کی قیادت میں پارٹی کا ایک وفد کل دہلی روانہ ہوگا۔ تلگودیشم پارٹی کے رکن پارلیمنٹ سی ایم رمیش نے کہا کہ سیما۔ آندھرا سے تعلق رکھنے والے ان کی پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ اور دیگر سرکردہ قائدین آئندہ دو روز کے دوران صدر جمہوریہ سے ملاقات کریں گے۔ اس دوران تلنگانہ اور سیما۔ آندھرا علاقوں سے تعلق رکھنے والے کانگریس کے کئی سینئر قائدین بھی دہلی روانہ ہورہے ہیں جہاں وہ اپنے متعلقہ موقف کو کامیاب بنانے کے لئے پارٹی کی مرکزی قیادت پر دباؤ ڈالیں گے۔ علیحدہ تلنگانہ کے قیام کی کوششوں میں ٹی آر ایس کے صدر کے چندر شیکھر راؤ بھی نئی دہلی پہنچ چکے ہیں۔ سمجھا جاتا ہے کہ آندھرا پردیش تنظیم جدید بِل 2013ء آج رات یا کل صبح مرکزی وزارت داخلہ کو روانہ کردیا جائے گا۔ 4 فروری کو کانگریس کی سیاسی اُمور کمیٹی کے اجلاس میں اس پر غور کیا جائے گا اور 5 فروری کو پارلیمنٹ میں بِل کی پیش کشی کا امکان ہے۔