اقوام متحدہ ۔ /21 جون (سیاست ڈاٹ کام) اقوام متحدہ کے نئے سفیر برائے میانمار نے عہدیداروں کو کہہ دیا ہے کہ جن افراد کے مظالم کی وجہ سے ریاست راکھین سے 7 لاکھ روہنگیاؤں کے بے گھر ہوجانے کے ذمہ دار پرتشدد حملہ آوروں کو قاتل قرار دیا جائے جن کی وجہ سے روہنگیا اقلیت سے تعلق رکھنے والے افراد بے گھر ہوگئے اور پناہ گزینوں کی حیثیت سے پڑوسی ممالک منتقل ہوئے ۔ اقوام متحدہ کی سفیر کرسٹین شانر برگجر نے میانمار کی قائد آنگ سانگ سوچی اور سربراہ فوج جنرل من آنگ لاینگ کے علاوہ دیگر عہدیداروں سے ملاقات کی ۔ وہ میانمار کے 9 روزہ دورہ پر تھیں جس کا آج اختتام ہوا ۔ تمام عہدیداروں سے تبادلہ خیال کے دوران اقوام متحدہ کی سفیر نے سمجھا جاتا ہے کہ احتساب کی اہمیت پر زور دیا اور اس ضرورت کو اجاگر کیا کہ حقیقی مفاہمت ہونی چاہئیے اور حملہ آوروں کو خاطی قرار دیتے ہوئے ان پر مقدمے چلائے جانے چاہئیے ۔ میانمار نے کہا کہ اگست میں شمالی ریاست راکھین میں انتہاپسندوں کو جڑسے اکھاڑ پھینکنے کیلئے فوجی کارروائی کا آغاز کیا گیا تھا ۔
اقوام متحدہ کی سفیر نے