روہنگیائی مہاجرین کی پہلی عید

ایک گھنٹہ پرامن احتجاج، انصاف اور ملک کو باعزت واپسی کا مطالبہ
کاکس بازار ۔ 18 جون (سیاست ڈاٹ کام) پورے عالم میں مسلمانوں نے بڑے ہی تزک و احتشام اور شان و شوکت کے ساتھ عیدالفطر منائی وہیں لٹے پٹے، بنگلہ دیش کے دورافتادہ خستہ حال کیمپس میں روہنگیائی مہاجرین نے ہفتہ کو پرامن احتجاج کرتے ہوئے عید منائی۔ اس احتجاج میں ان کا مطالبہ تھا کہ ان کے ساتھ انصاف کیا جائے اور انہیں باعزت و باوقار انداز میں ان کے اپنے ملک کو روانہ کرنے کا بندوبست کیا جائے۔ پہلی عیدالفطر کے موقع پر کاکس بازار کے خیموں کے پناہ گزین بغیر کسی خلل اندازی کے مساجد میں نماز عیدالفطر کیلئے روانہ ہوئے۔ اس موقع پر وہ رنگ برنگے ملبوسات زیب تن کئے ہوئے تھے۔ اس موقع پر مہاجرین نے اللہ تعالیٰ سے سیلاب سے محفوظ رہنے کیلئے دعا کی اور اچانک زمین کھسکنے کے واقعات سے بھی پناہ مانگی۔ بچوں نے اس موقع پر وہاں موجود مختلف جھولوں کا خوب لطف لیا۔ کیمپس کی مساجد، مہاجرین کی بڑی تعداد موجود ہونے کے باعث تنگ دامنی کا شکوہ کرتی نظر آرہی تھی۔ کیمپس کے مکینوں کے طریقہ کار کے مطابق پناہ گزینوں نے ایک گھنٹہ طویل احتجاج کیا جس میں انہوں نے پلے کارڈس اور بیانرس تھام رکھے تھے۔ احتجاجیوں نے مطالبہ کیا کہ انہیں ان کے ملک میانمار کی شہریت دی جائے۔ میانمار کو باعزت و باوقار انداز میں روانہ ہونے کے اسباب مہیا کئے جائیں اور اقوام متحدہ ان کی سلامتی و تحفظ کا ضامن بنے۔ کمیونٹی قائد محمد مہیب اللہ نے میڈیا کو بتایا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اقوام متحدہ روہنگیا کے ایک ’’نمائندہ‘‘ کو شامل کرے جو ان کے باعزت و باوقار انداز میں ’’معاہدہ‘‘ کے مطابقت میں ہو جس پر نظر رکھی جائے۔ یاد رہیکہ 7 لاکھ روہنگیائی مسلمانوں نے بنگلہ دیش میں پناہ لی ہوئی ہے۔