تلگو عوام کو مشکلات پیش آرہی ہیں ، مسئلہ کی یکسوئی ضروری
حیدرآباد ۔ 12 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز) : وزیر ٹرانسپورٹ آندھرا پردیش مسٹر ایس راگھوا راؤ نے حکومت تلنگانہ کو اپنی سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ روڈ ( ٹرانسپورٹ ) ٹیکس کے مسئلہ پر حکومت تلنگانہ اپنا سخت و آمرانہ رویہ اختیار کررہی ہے ۔ آج یہاں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر ٹرانسپورٹ آندھرا پردیش نے کہا کہ حکومت تلنگانہ کے اقدامات سے تلگو عوام کو مشکلات پیش آرہی ہیں لہذا تلگو عوام کو کسی قسم کی مشکلات پیش نہ آنے کے لیے ہی ہم خوشگوار انداز میں ( حکومت آندھرا پردیش ) بات چیت کی کوشش کررہے ہیں تو حکومت تلنگانہ کوئی اپنے مثبت ردعمل کا اظہار کرنے سے گریز کررہی ہے ۔ مسٹر ایس راگھوا راو نے پر زور و واضح طور پر کہا کہ مشترکہ راجدھانی رہنے کے باعث آندھرا پردیش ریاست کی گاڑیوں کو آنے کا پورا پورا اور مکمل حق حاصل ہے ۔ انہوں نے حکومت تلنگانہ سے انٹری ٹیکس کے مسئلہ پر بات چیت کے لیے آگے آنے کی پھر ایکبار پر زور خواہش کی ۔ انہوں نے اس بات پر تاسف کا اظہار کیا کہ دوستانہ و خوشگوار ماحول میں بات چیت کے ذریعہ مسائل کی یکسوئی کے لیے از خود پہل کر کے وزیر ٹرانسپورٹ تلنگانہ سے ملاقات کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے بات چیت کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ بات چیت کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ وزیر ٹرانسپورٹ حکومت آندھرا پردیش نے واضح اور سخت الفاظ میں کہا کہ حکومت کو تلنگانہ انٹری ٹیکس کے مسئلہ پر آئندہ چار پانچ یوم میں مسئلہ کا کوئی حل تلاش کرنا ہوگا ۔ بہ صورت دیگر حکومت آندھرا پردیش کی جانب سے کوئی قطعی فیصلہ کر کے اس فیصلہ کے مطابق ہی اقدامات کرنے کا سخت انتباہ دیا ۔ وزیر ٹرانسپورٹ آندھرا پردیش نے اخباری نمائندوں کے مختلف سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ٹاملناڈو کے لیے بسیں روکدئیے جانے کے نتیجہ میں حکومت آندھرا پردیش کو بالخصوص آر ٹی سی کو دو کروڑ روپئے کا نقصان ہوا ہے ۔ مسٹر ایس راگھوا راؤ نے مزید کہا کہ اندرون ایک ماہ کے دوران بہر صورت آر ٹی سی کی تقسیم کو مکمل کرلیا جائیگا کیوں کہ آر ٹی سی کی تقسیم کے عمل میں تیزی پیدا کردی گئی ہے ۔ اور موجودہ تمام ایکزیکٹیو ڈائرکٹرس کی تقسیم دونوں ریاستوں میں تکمیل پاچکی ہے لہذا اس طرح آر ٹی سی کی تقسیم کے دیگر مراحل بھی تیزی کے ساتھ مکمل کرلیے جائیں گے ۔۔