ماسکو 23 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) روسی قانون سازوں نے پارلیمنٹ میں ایک مسودہ قانون پیش کیا ہے جس میں اسلامی فینانس کی تائید کی گئی ہے ۔ اس کا مقصد سرمایہ کے بہاؤ کو حاصل کرنا ہے جبکہ یہاں معاشی سست روی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور مغربی طاقتوں کی جانب سے عائد کردہ تحدیدات کے نرم پڑنے یا ان کی برخواستگی کا کوئی امکان بھی نہیں ہے ۔ یہ مسودہ قانون پارلیمنٹ کے ایوان زیریں اسٹیٹ ڈوما کو جاریہ ہفتے روانہ کیا گیا ہے ۔ اس مسودہ میں تجویز کیا گیا ہے کہ بینکوں کو تجارتی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے ۔ یہ ایسی تجویزہ ے جو شریعت کی پابندی کے ساتھ اصولوں میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے ۔ حالانکہ اس مسودہ قانون کی راہ میں کئی رکاوٹیں حاصل ہیں لیکن اسے ایک ایسے بینکنگ نام کی شروعات کی سمت پہلا قدم قرار دیا جا رہا ہے جس کے نتیجہ میں کئی خلیجی و جنوب مشرقی ایشیائی ممالک میں ترقی کی شرح دو ہندسوں تک پہونچ گئی ہے ۔ اس بینکنگ نظام کو روس میں ابھی منظوری حاصل نہیں ہوئی ہے ۔ اسلامی قوانین کے تحت اسلامک فینانس میں بینکس ڈپازیٹرس سے سرویس فیس حاصل کرتے ہیں اور ڈپازیٹرس کو بینک کے نفع میں حصہ دار بنایا جاتا ہے ۔ ترکی ایک ایسا ملک ہے جو خود بھی اسلامک بینکنگ میں پیشرفت کرنا چاہتا ہے ۔ ڈوما کی فینانشیل مارکٹس کمیٹی کے رکن ڈمٹری ساویلیف نے کہا کہ یوروپ اور امریکہ میں عملا مکمل معاشی بلاکیڈ کے وقت میں روسی بینکس کو سرمایہ کاری حاصل کرنے کیلئے نئی راہیں تلاش کرنے کی ضرورت ہے ۔ روس پر مغربی ممالک کی تحدیدات عائد ہیں جن کے نتیجہ میں اس کی معاشی رفتار سست ہوگئی ہے ۔ یوکرین کے بحران کی وجہ سے روس پر امریکہ اور اس کے حواری ممالک نے تحدیدات عائد کی ہیں۔
کہا جا رہا ہے کہ روسی ڈوما میں پیش کردہ یہ مسودہ قانون اسلامک فینانس کی شروعات کیلئے اہمیت کا حامل ہے جس کے نتیجہ میں دوگنا یا سہ گنا ٹیکس و محصول وصول کئے جاسکتے ہیں کیونکہ ان قوانین کی رو سے غیر اہم اثاثہ جات کی ہمہ جہتی منتقلی کی گنجائش رہتی ہے ۔ اس طرح کے مسائل پر برطانیہ اور لگژمبرگ جیسے ممالک نے ان قوانین سے مدد حاصل کی ہے ۔ روس کی داغستان جمہوریہ میں کام کرنے والی ایک اسلامک فینانشیل کمپنی لا ربع فینانس کے چیف ایگزیکیٹیو مراد علی شکروف نے کہا کہ نظریاتی اور فنی اعتبار سے حکومت کیلئے اسلامک بینکنگ پر ایک قانون تیار کرنا مملن ہے ۔ اسلامک بینکس کا زبردست سماجی اثر ہوسکتا ہے اور یہ روایتی بینکوں کا متبادل بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ اس تجویز کے سلسلہ میں اس کی افادیت کا جائزہ لینے ایک اسٹڈی بھی شروع کی گئی ہے اور ایک روسی کنسورشیم و ملیشیائی سرمایہ کار یہ کام کر رہے ہیں تاکہ اسلامک بینک اور اسلامک یونٹ کے روس میں قیام کو یقینی بنایا جاسکے ۔ کہا گیا ہے کہ یہ جائزہ ماہ ستمبر تک تیار ہوجائیگا جس کے نتیجہ میں فریقین مزید تفصیلات سے واقف ہونے کے بعد ایک ایسی یونٹ قائم کرسکتے ہیں جس کے ذریعہ قوانین کی تبدیلی کا عمل آگے بڑھایا جاسکتا ہے ۔ بعض کمپنیاں اسلامک بانڈز کو رائج کرنے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ روس کی تاتارستان جمہوریہ نے آئندہ ماہ ایک چوٹی کانفرنس منعقد کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے ۔ کانفرنس میں متبادل تجاویز پر غور کیا جائیگا ۔ کہا گیا ہیکہ ان تجاویز کا اثر دوسری سابق سوویت جمہوریتوں پر بھی ہوسکتا ہے ۔ اسلامک فینانس کو یقینی بنانے کی کوششوں کو آگے بڑھانے کیلئے ایک علاقائی ورکنگ گروپ بھی تشکیل دیا گیا ہے جس میں قزاقستان ‘ تاجکستان اور کرغزستان جیسے ممالک شامل ہوگئے ہیں۔