واشنگٹن ۔ 17 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ کے ایک اعلیٰ سطحی فوجی عہدیدار نے آج ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ روس کی جانب سے ایران کو S-300 جو دفاعی میزائلس سربراہ کرنے کا معاہدہ ہوا ہے، اس سے امریکہ کی ایران کی نیوکلیئر تنصیبات پر (اگر ضرورت پڑی) پر حملہ کرنے کی اہلیت ذرہ برابر بھی متاثر نہیں ہوگی۔ یو ایس جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارٹن ڈیمپسی نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو یہ بات پہلے سے ہی معلوم ہیکہ روس کی جانب سے اسے دفاعی میزائل سربراہ کئے جانے والے ہیں اور امریکہ نے ایران کیلئے جو بھی منصوبے بتائے ہیں ان میں اس نکتہ کو ہمیشہ شامل رکھا۔ انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ امریکہ یہ بات برسوں پہلے سے جانتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عرصہ دراز سے ایران کو نیوکلیئر پروگرام سے دستبردار ہونے کیلئے سفارتی بات چیت کی ناکامی پر بزور طاقت ایران کو باز رکھنے کے امکانات پر امریکہ نے کبھی کوئی منفی جواب نہیں دیا
اور اب جبکہ روس نے یہ فیصلہ کرلیا ہیکہ ایران کو انتہائی عصری نوعیت کے S-300 میزائیلس سربراہ کئے جائیں گے، اس سے امریکہ کے متبادل کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جنرل ڈیمپسی کے مطابق صدر اوباما کو دونوں ہی متبادل کیلئے آمادہ کیا جاچکا ہے کہ ایران سے نیوکلیئر مذاکرات اگر سفارتی طور پر ناکام ہوتی ہیں تو پھر فوج کشی کے ذریعہ ایران کو روکا جاسکتا ہے اور یہ متبادل آج بھی اپنی جگہ ’’مسلمہ اور اٹوٹ‘‘ ہے۔ اب جبکہ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان نیوکلیئر معاہدہ کو قطعیت دی جانی والی ہے لہٰذا ایسے موقع پر روس کو ایران کیلئے میزائیل کی برآمد سے روکنا بے فضول ہوگا حالانکہ اسرائیل نے روسی میزائل کی برآمد پر کافی واویلا مچایا تھا۔ یہاں تک کہ امریکہ نے بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا۔ تاہم ایران نے اس فیصلہ کو اپنی داخلی سیکوریٹی کیلئے حق بجانب قرار دیا تھا۔