سڈنی 26 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) برف توڑنے والے تین بحری جہاز روسی بحری جہاز تک پہونچنے کے لئے تیز رفتار سے روانہ ہوگئے۔ روسی جہاز میں 74 افراد سوار ہیں جو بحر منجمد جنوبی کی برف میں پھنس گیا ہے۔ یہ افراد ایک سائنسی مہم پر تھے۔ آسٹریلیا کے عہدیداروں نے بچاؤ مہم میں تعاون کیا ہے۔ آسٹریلیائی بحری تحفظ اتھاریٹی نے کہاکہ ایم وی اکیڈیمک شوکالسکی بحری جہاز نے کل ایک پیغام روانہ کیا تھا کہ وہ فرانسیسی فوجی اڈے ڈیو مونٹ ڈی اُرول سے 100 بحری میل کے فاصلہ پر برف میں پھنس گیا ہے اور پریشانی کا شکار ہے۔ یہ بحری جہاز کھلے سمندر میں سفر کررہا تھا جبکہ ایک طوفان کا شکار ہوگیا۔
مہم کے ترجمان ایلون اسٹون نے کہاکہ بحری جہاز صرف برف میں پھنس گیا ہے۔ اِسے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔ آسٹریلیائی تلاش و بچاؤ علاقہ میں عہدیداروں نے ایک پیغام نشر کیا جس کو سُن کر اِس علاقہ میں تعینات برف توڑنے والے بحری جہاز روسی جہاز کو بچانے کے لئے روانہ ہوگئے۔ اِن تینوں بحری جہازوں میں آسٹریلیائی بحرمنجمد جنوبی ڈیویژن کا ارورا آسٹریلیا بحری جہاز بھی شامل ہے۔ جس پر چینی پرچم لہرا رہا ہے اور اُمید ہے کہ وہ سب سے پہلے کل دیر گئے روسی بحری جہاز تک پہونچ جائے گا۔اِس مہم کے کمانڈر نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ روسی بحری جہاز تک پہونچنا مشکل ہوسکتاہے۔
برطانوی ایمگریشن قانون نسلی امتیاز کا ماحول پیدا کررہا ہے، اقوام متحدہ کی مذمت
لندن 26 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے محکمہ نے وزیراعظم برطانیہ ڈیوڈ کیمرون کے مجوزہ ایمگریشن قوانین کی مذمت کی ہے کیونکہ اُسے اندیشہ ہے کہ یہ قوانین غیرملکیوں کے ساتھ متعصبانہ برتاؤ کریں گے اور مستحق افراد کو قیام کی سہولت فراہم نہیں کی جائے گی۔ اِس طرح برطانیہ میں نسلی تعصب کا ماحول پیدا ہوجائے گا۔ اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے کمشنر انٹونیو گوٹیرس نے ایمگریشن قانون پر اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ یہ کئی برادریوں کو تباہ کردے گا۔